سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ التَّكْبِيرِ وَرَفْعِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الِافْتِتَاحِ وَالرُّكُوعِ وَالرَّفْعِ مِنْهُ وَقَدْرِ ذَلِكَ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ باب: : تکبیر تحریمہ، نماز کے آغاز میں ، رکوع میں جاتے ہوئے، رکوع سے اٹھتے ہوئے ، رفع یدین کرنا، اس کی مقدار اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبَاهِلِيُّ ، قَالا : نا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ ثنا بَقِيَّةُ ، ثنا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى إِذَا كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ كَبَّرَ ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَهُمَا كَذَلِكَ ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ صُلْبَهُ رَفَعَهُمَا حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، ثُمَّ سَجَدَ فَلا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي السُّجُودِ وَيَرْفَعُهُمَا فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ يُكَبِّرُهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ حَتَّى تَنْقَضِيَ صَلاتُهُ .سالم رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے، یہاں تک کہ وہ کندھوں کے مقابل آ جاتے، پھر تکبیر کہتے۔ جب رکوع میں جانے لگتے تو دونوں ہاتھ بلند کرتے، یہاں تک کہ وہ کندھوں کے مقابل آ جاتے، پھر رکوع میں چلے جاتے۔ جب رکوع سے اٹھتے تو دونوں ہاتھ بلند کرتے، یہاں تک کہ وہ کندھوں کے مقابل آ جاتے، پھر ”سمع اللہ لمن حمدہ“ پڑھتے، پھر سجدے میں چلے جاتے۔ سجدوں کے درمیان آپ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ پوری نماز کے دوران جب بھی رکوع میں جاتے ہوئے تکبیر کہتے تو رفع یدین کرتے تھے۔