سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ باب: : ایک کپڑا پہن کر نماز ادا کرنا
قُرِئَ عَلَى يَحْيَى بْنِ صَاعِدٍ ، حَدَّثَكُمْ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ثنا هِشَامٌ الْقُرْدُوسِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُصَلِّي الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ؟ قَالَ : " أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ ؟ " ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَيُصَلِّي الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ؟ قَالَ : إِذَا وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَوْسِعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ ، ثُمَّ جَمَعَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ فَصَلَّى فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ ، فِي إِزَارٍ وَقَمِيصٍ ، فِي إِزَارٍ وَقَبَاءٍ ، فِي سَرَاوِيلَ وَرِدَاءٍ ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَمِيصٍ ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَبَاءٍ ، قَالَ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : فِي تُبَّانٍ وَقَمِيصٍ ، فِي تُبَّانٍ وَرِدَاءٍ ، فِي تُبَّانٍ وَقَبَاءٍ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص کھڑا ہوا اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز ادا کر سکتا ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم سب لوگوں کے پاس دو کپڑے ہیں؟“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک شخص ان کے سامنے کھڑا ہوا اور بولا: ”اے امیر المؤمنین! کیا کوئی شخص ایک کپڑا پہن کر نماز ادا کر سکتا ہے؟“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”جب اللہ نے تمہیں گنجائش دی ہے تو تم بھی اپنے آپ کو گنجائش دو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد وہ شخص تہبند پہن کر اوپر چادر اوڑھ کر یا قمیص پہن کر اور تہبند پہن کر، یا شلوار پر قباء پہن کر یا شلوار پہن کر اور اوپر چادر لپیٹ کر یا شلوار پہن کر اور اوپر قمیص پہن کر یا قباء پہن کر نماز پڑھا کرتا تھا۔ راوی کو شک ہے: شاید یہ الفاظ ہیں: وہ پائجامہ اور قمیص پہن کر یا پائجامہ پہن کر اوپر چادر لپیٹ کر یا پائجامہ پہن کر اوپر قباء پہن کر نماز ادا کیا کرتا تھا۔