سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ التَّحْوِيلِ إِلَى الْكَعْبَةِ وَجَوَازِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ فِي بَعْضِ الصَّلَاةِ باب: : خانہ کعبہ کی طرف رخ کرلینا اور نماز کے درمیان قبلہ کی طرف رخ کرنے کا جائز ہونا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عِيسَى ، نا أَبُو هَاشِمٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ قُدُومِهِ الْمَدِينَةَ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، ثُمَّ عَلِمَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ هَوَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فنزلت : قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة البقرة آية 144 ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُوَلِّيَ إِلَى الْكَعْبَةِ ، وَمَرَّ عَلَيْنَا رَجُلٌ وَنَحْنُ نُصَلِّي نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَقَالَ : إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَوَّلَ وَجْهَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ ، فَتَوَجَّهْنَا إِلَى الْكَعْبَةِ وَقَدْ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ " .سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد تقریباً سولہ ماہ تک ہم لوگ آپ کی اقتداء میں بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی خواہش سے واقف تھا۔ اس نے یہ آیت نازل کی: ”ہم تمہارے چہرے کا آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں، ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس سے تم راضی ہو جاؤ گے، تو تم اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کر لو۔“ اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ خانہ کعبہ کی طرف رخ کریں۔ راوی کہتے ہیں: ایک شخص ہمارے پاس سے گزرا، ہم اس وقت بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر رہے تھے۔ اس نے بتایا: تمہارے نبی نے خانہ کعبہ کی طرف رخ کر لیا ہے۔ تو ہم نے اپنا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر لیا، حالانکہ ہم دو رکعت ادا کر چکے تھے۔