حدیث نمبر: 1072
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عِيسَى ، نا أَبُو هَاشِمٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ قُدُومِهِ الْمَدِينَةَ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، ثُمَّ عَلِمَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ هَوَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فنزلت : قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة البقرة آية 144 ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُوَلِّيَ إِلَى الْكَعْبَةِ ، وَمَرَّ عَلَيْنَا رَجُلٌ وَنَحْنُ نُصَلِّي نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَقَالَ : إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَوَّلَ وَجْهَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ ، فَتَوَجَّهْنَا إِلَى الْكَعْبَةِ وَقَدْ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ " .
محمد محی الدین

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد تقریباً سولہ ماہ تک ہم لوگ آپ کی اقتداء میں بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی خواہش سے واقف تھا۔ اس نے یہ آیت نازل کی: ”ہم تمہارے چہرے کا آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں، ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس سے تم راضی ہو جاؤ گے، تو تم اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کر لو۔“ اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ خانہ کعبہ کی طرف رخ کریں۔ راوی کہتے ہیں: ایک شخص ہمارے پاس سے گزرا، ہم اس وقت بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر رہے تھے۔ اس نے بتایا: تمہارے نبی نے خانہ کعبہ کی طرف رخ کر لیا ہے۔ تو ہم نے اپنا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر لیا، حالانکہ ہم دو رکعت ادا کر چکے تھے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1072
درجۂ حدیث محدثین: مضطرب
تخریج حدیث «مضطرب، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 40، 399، 4486، 4492، 7252، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 525، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 428، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 487 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 340، 2962، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1010، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1072، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18790»
«قال ابن حجر: أبو بكر سيئ الحفظ وقد اضطرب فيه ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (1 / 118)»