سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ الِاجْتِهَادِ فِي الْقِبْلَةِ وَجَوَازِ التَّحَرِّي فِي ذَلِكَ باب: : قبلہ (کی سمت معلوم کرنے کے لیے ) اجتہاد کرنا اور اس بارے میں اندازہ لگانے کا جائز ہونا۔
حدیث نمبر: 1066
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، وَعَلِيُّ بْنُ أَشْكَابَ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالا : نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا أَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ بِهَذَا ، وَقَالَ : " فَجَعَلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا بَيْنَ يَدَيْهِ أَحْجَارًا يُصَلِّي إِلَيْهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا نَحْنُ إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ " فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ہم میں سے ہر شخص نے اپنے سامنے کی سمت موجود پتھروں کی طرف منہ کر کے نماز ادا کر لی جب صبح ہوئی تو ہمارا رخ قبلہ کی طرف نہیں تھا، ہم نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔