سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ الِاجْتِهَادِ فِي الْقِبْلَةِ وَجَوَازِ التَّحَرِّي فِي ذَلِكَ باب: : قبلہ (کی سمت معلوم کرنے کے لیے ) اجتہاد کرنا اور اس بارے میں اندازہ لگانے کا جائز ہونا۔
حدیث نمبر: 1065
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، ثنا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، ثنا وَكِيعٌ ، ثنا أَشْعَثُ السَّمَّانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ فَلَمْ نَدْرِ كَيْفَ الْقِبْلَةُ ، فَصَلَّى كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا عَلَى حِيَالِهِ ، قَالَ : فَلَمَّا أَصْبَحْنَا ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فنزلت : فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115 " .محمد محی الدین
عبداللہ بن عامر رحمہ اللہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم نے ایک سفر کے دوران انتہائی تاریک رات میں نماز ادا کی۔ ہمیں قبلہ کی سمت کا پتہ نہ چل سکا۔ ہم میں سے ہر شخص نے جس طرف اس کا رخ تھا، اسی طرف منہ کر کے نماز پڑھ لی۔ اگلے دن ہم نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ”تم جہاں بھی ہو، وہاں اللہ کی ذات موجود ہو گی۔“