سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ الِاجْتِهَادِ فِي الْقِبْلَةِ وَجَوَازِ التَّحَرِّي فِي ذَلِكَ باب: : قبلہ (کی سمت معلوم کرنے کے لیے ) اجتہاد کرنا اور اس بارے میں اندازہ لگانے کا جائز ہونا۔
قُرِئَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ أَوْ سَفَرٍ فَأَصَابَنَا غَيْمٌ فَتَحَيَّرْنَا فَاخْتَلَفْنَا فِي الْقِبْلَةِ فَصَلَّى كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا عَلَى حِدَةٍ وَجَعَلَ أَحَدُنَا يَخُطُّ بَيْنَ يَدَيْهِ لِنَعْلَمَ أَمْكِنَتَنَا ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَأْمُرْنَا بِالإِعَادَةِ ، وَقَالَ : " قَدْ أَجْزَأَتْ صَلاتُكُمْ " . كَذَا قَالَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ ، وَقَالَ غَيْرُهُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ وَهُمَا ضَعِيفَانِ.سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں شریک تھے اور اسی دوران اندھیرا چھا گیا، ہم بہت پریشان ہوئے قبلہ کے بارے میں ہمارے درمیان اختلاف ہو گیا ہم میں سے ہر شخص نے اپنی پسندیدہ جہت کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر لی اور کچھ لوگوں نے اپنے سامنے نشان بھی لگایا، تاکہ ہمیں اپنی جگہ کے بارے میں یاد رہے بعد میں اس کا تذکرہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے ہمیں نماز کو دہرانے کا حکم نہیں دیا، آپ نے یہ ارشاد فرمایا: ”تمہاری نماز درست ہوئی ہے۔“ محمد بن سالم نامی راوی کے حوالے سے اسی طرح منقول ہے، جبکہ بعض دیگر راویوں نے اسے دوسری سند سے نقل کیا ہے اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں۔