سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الرُّكُوعِ بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ فِي كُلِّ صَلَاةٍ وَالرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ وَالِاخْتِلَافِ فِيهِ باب: : ہر نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان نوافل ادا کرنے کی ترغیب : مغرب کی نماز سے پہلے دونفل ادا کرنا اور اس بارے میں مذکور اختلاف۔
حدیث نمبر: 1051
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، نا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنَّا بِالْمَدِينَةِ إِذَا أُذِّنَ بِالْمَغْرِبِ ابْتَدَرَ الْقَوْمُ السَّوَارِيَ يُصَلُّونَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى إِنَّ الْغَرِيبَ لَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ فَيَرَى أَنَّ الصَّلاةَ قَدْ صُلِّيَتْ مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يُصَلِّيهَا " .محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مدینہ منورہ میں ہمارا یہ معمول تھا جب مغرب کی اذان دی جاتی تھی تو ہم لوگ تیزی سے ستونوں کی طرف لپکتے تھے اور دو رکعت (فرض سے پہلے نوافل کے طور پر) ادا کرتے تھے یہاں تک کہ کوئی اجنبی شخص مسجد میں داخل ہوتا تو اسے یہی محسوس ہوتا کہ شاید نماز ادا کی جا چکی ہے، کیونکہ ان دو رکعت کو ادا کرنے والے کثیر تعداد میں ہوتے تھے۔