سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الرُّكُوعِ بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ فِي كُلِّ صَلَاةٍ وَالرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ وَالِاخْتِلَافِ فِيهِ باب: : ہر نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان نوافل ادا کرنے کی ترغیب : مغرب کی نماز سے پہلے دونفل ادا کرنا اور اس بارے میں مذکور اختلاف۔
حدیث نمبر: 1048
قُرِئَ عَلَى قُرِئَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَنِيعٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا هُشَيْمٌ ، أنا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْبُنَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ بِالْمَغْرِبِ ابْتَدَرُوا السَّوَارِيَ يُصَلُّونَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ ، فَيَجِيءُ الْجَائِي فَيَظُنُّ أَنَّهُمْ قَدْ صَلَّوُا الْمَكْتُوبَةَ لِكَثْرَةِ مَنْ يَرَى مَنْ يُصَلِّيهَا " .محمد محی الدین
عبدالعزیز لبنانی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا یہ معمول تھا کہ جب موذن مغرب کی اذان دیتا تو وہ تیزی سے ستونوں کی طرف لپکتے تھے تاکہ مغرب سے پہلے دو رکعت ادا کر لیں، اگر کوئی شخص اس وقت وہاں ہوتا تو اتنی تعداد میں ان دو نوافل ادا کرنے والے لوگوں کو دیکھتا تو یہی سمجھتا کہ شاید فرض نماز ادا کی جا چکی ہے۔