سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الرُّكُوعِ بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ فِي كُلِّ صَلَاةٍ وَالرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ وَالِاخْتِلَافِ فِيهِ باب: : ہر نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان نوافل ادا کرنے کی ترغیب : مغرب کی نماز سے پہلے دونفل ادا کرنا اور اس بارے میں مذکور اختلاف۔
حدیث نمبر: 1047
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، أنا حَمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شَدَّادٍ الْجُرَيْرِيُّ ، نا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " إِنْ كَانَ الْغَرِيبُ لَيَدْخُلُ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ وَقَدْ نُودِيَ بِالْمَغْرِبِ ، فَيَرَى أَنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ " .محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بعض اوقات کوئی اجنبی شخص مدینہ منورہ کی مسجد میں داخل ہوتا اور وہاں لوگ مغرب کے وقت نماز ادا کر رہے ہوتے تو یوں محسوس ہوتا کہ شاید لوگ نماز (باجماعت) ادا کر چکے ہیں کیونکہ مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعت ادا کرنے والے لوگ اتنے زیادہ ہوتے تھے۔