سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الرُّكُوعِ بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ فِي كُلِّ صَلَاةٍ وَالرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ وَالِاخْتِلَافِ فِيهِ باب: : ہر نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان نوافل ادا کرنے کی ترغیب : مغرب کی نماز سے پہلے دونفل ادا کرنا اور اس بارے میں مذکور اختلاف۔
وَنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، ثنا حَيَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ صَلاةِ الظُّهْرِ ، فَلَمَّا سَمِعَ الأَذَانَ ، قَالَ : قُومُوا فَصَلُّوا رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الإِقَامَةِ ، فَإِنَّ أَبِي قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عِنْدَ كُلِّ أَذَانَيْنِ رَكْعَتَانِ قَبْلَ الإِقَامَةِ مَا خَلا أَذَانَ الْمَغْرِبِ " . قَالَ ابْنُ بُرَيْدَةَ : لَقَدْ أَدْرَكْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يُصَلِّي تَيْنِكَ الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْمَغْرِبِ لا يَدَعُهُمَا عَلَى حَالٍ ، قَالَ : فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الإِقَامَةِ ثُمَّ انْتَظَرْنَا حَتَّى خَرَجَ الإِمَامُ فَصَلَّيْنَا مَعَهُ الْمَكْتُوبَةَ ، خَالَفَهُ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، وَسَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، وَكَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ . وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ ، وَحَيَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ لَيْسَ بِقَوِيٍّ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.حیان بن عبیداللہ عدوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے موذن نے ظہر کی نماز کے لیے اذان دی جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اذان سنی تو فرمایا: ”اٹھو اور اقامت سے پہلے دو نفل ادا کرو۔“ کیونکہ میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مغرب کی اذان کے علاوہ ہر دو اذانوں (یعنی اذان اور اقامت کے درمیان) اقامت سے پہلے دو رکعت ادا کی جائیں گی۔“ عبداللہ بن بریدہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر کو مغرب کے وقت بھی ان دو رکعت کو ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے وہ انہیں کسی بھی حالت میں ترک نہیں کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم اٹھے اور ہم نے اقامت سے پہلے دو رکعت ادا کر لیں پھر ہم انتظار کرنے لگے یہاں تک کہ امام تشریف لائے تو ہم نے ان کی اقتداء میں فرض نماز ادا کی۔ حسین معلم، سعید جریری، کہمس بن حسن، نے ان کے برخلاف روایت نقل کی ہے، یہ تمام راوی ثقہ ہیں، جبکہ حیان بن عبیداللہ نامی راوی زیادہ مستند نہیں ہیں باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔