سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ إِمَامَةِ جَبْرَائِيلَ باب: : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
ثنا أَبُو طَالِبِ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ طَالِبٍ ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ إِدْرِيسُ بْنُ يُونُسَ بْنِ يَنَّاقٍ الْفَرَّاءُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جِدَارٍ ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ لِلنَّاسِ بِالصَّلاةِ حِينَ فُرِضَتْ عَلَيْهِمْ ، فَقَامَ جَبْرَائِيلُ أَمَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامُوا النَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لا يَجْهَرُ فِيهَا بِقِرَاءَةٍ ، يَأْتَمُّ النَّاسُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَأْتَمُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِبْرَائِيلَ ، ثُمَّ أَمْهَلَ حَتَّى إِذَا دَخَلَ وَقْتُ الْعَصْرِ صَلَّى بِهِمْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لا يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ ، يَأْتَمُّ الْمُسْلِمُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَأْتَمُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِبْرَائِيلَ ، ثُمَّ أَمْهَلَ حَتَّى إِذَا وَجَبَتِ الشَّمْسُ صَلَّى بِهِمْ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ يَجْهَرُ فِي رَكْعَتَيْنِ بِالْقِرَاءَةِ وَلا يَجْهَرُ فِي الثَّالِثَةِ ، ثُمَّ أَمْهَلَهُ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ صَلَّى بِهِمْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَجْهَرُ فِي الأُولَيَيْنِ بِالْقِرَاءَةِ وَلا يَجْهَرُ فِي الأُخْرَيَيْنِ بِالْقِرَاءَةِ ، ثُمَّ أَمْهَلَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ يَجْهَرُ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جبرائیل علیہ السلام مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جب سورج ڈھل چکا تھا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز کے لیے بلائیں۔“ یہ اس وقت کی بات ہے جب نماز لوگوں پر فرض ہو گئی تھی، جبرائیل علیہ السلام آپ کے آگے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے راوی بیان کرتے ہیں انہوں نے چار رکعت نماز ادا کی جس میں بلند آواز میں قراءت نہیں کی، لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے رہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی اقتداء میں نماز ادا کرتے رہے پھر اس کے بعد وقت گزرا جب عصر کا وقت آیا تو جبرائیل علیہ السلام نے ان لوگوں کو چار رکعت پڑھائیں انہوں نے اس میں بھی بلند آواز میں قراءت نہیں کی، مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی کرتے رہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی اقتداء میں نماز ادا کرتے رہے، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا تو انہوں نے لوگوں کو تین رکعت پڑھائیں جن میں سے پہلی دو رکعت میں بلند آواز میں قراءت کی اور تیسری رکعت میں بلند آواز میں قراءت نہیں کی، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی، تو انہوں نے لوگوں کو چار رکعت نماز پڑھائی جن میں سے پہلی دو رکعت میں بلند آواز میں قراءت کی اور آخری دو رکعت میں بلند آواز میں قراءت نہیں کی، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ صبح صادق ہوئی تو انہوں نے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور انہوں نے ان دو رکعت میں بلند آواز میں قراءت کی۔