سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ إِمَامَةِ جَبْرَائِيلَ باب: : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، إِمْلاءً ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، ثنا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : " جَاءَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ ، فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ ، فَجَاءَهُ الْعَصْرَ ، فَقَالَ : قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ ، فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ ، فَقَامَ فَصَلاهَا حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ سَوَاءً ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى ذَهَبَ الشَّفَقُ فَجَاءَهُ ، فَقَالَ : قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ ، فَقَامَ فَصَلاهَا ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ بِالصُّبْحِ ، فَقَالَ : قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ ، فَقَامَ فَصَلَّى الصُّبْحَ ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ ، فَقَالَ : قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَيْهِ ، فَقَالَ : قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ يَزَلْ عَنْهُ ، قَالَ : قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْعِشَاءِ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلُ ، فَقَالَ : قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ فَصَلَّى ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلصُّبْحِ حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا ، فَقَالَ : قُمْ فَصَلِّ الصُّبْحَ ، ثُمَّ قَالَ : مَا بَيْنَ هَذَيْنِ كُلُّهُ وَقْتٌ " .سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت سورج ڈھل چکا تھا اور بولے: ”اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! اٹھیے اور ظہر کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج ڈھل جانے کے بعد ظہر کی نماز ادا کی۔ پھر کچھ وقت گزر گیا اتنا کہ جب کسی شخص کا سایہ اس کے جتنا ہو جاتا تو وہ عصر کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے: ”اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! اٹھیے اور عصر کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے عصر کی نماز ادا کی، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، تو جبرائیل علیہ السلام بولے: ”اٹھیے اور مغرب کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے یہ نماز اس وقت ادا کی جب سورج مکمل غروب ہو چکا تھا، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ شفق رخصت ہو گئی، تو جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے: ”اٹھیے اور عشاء کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے یہ نماز ادا کی، پھر جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب صبح صادق ہو چکی تھی، وہ بولے: ”اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! اٹھیے اور نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے صبح کی نماز ادا کی، اگلے دن جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ظہر کے وقت اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے جتنا ہو چکا تھا، اور بولے: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اٹھیے اور ظہر کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے ظہر کی نماز ادا کی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس سے دوگنا ہو چکا ہوتا ہے اور بولے: ”اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! اٹھیے اور عصر کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے عصر کی نماز ادا کی پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مغرب کے وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا، یہ وہی ایک ہی وقت تھا (اس میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی) وہ بولے: ”اٹھیے اور مغرب کی نماز ادا کیجیے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا کی، پھر جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عشاء کی نماز کے لیے اس وقت آئے جب ایک تہائی رات گزر چکی تھی اور بولے: ”اٹھیے اور عشاء کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز ادا کی، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صبح کی نماز کے لیے اس وقت آئے جب روشنی اچھی طرح پھیل چکی تھی، اور بولے: ”اٹھیے اور صبح کی نماز ادا کیجیے۔“ پھر انہوں نے بتایا: ”ان دونوں کے درمیان کا وقت (نمازوں کا مخصوص شرعی) وقت ہے۔“