حدیث نمبر: 1003
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، نا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ مُوسَى بْنَ سَعْدٍ الأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَهُ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَنْحَرَ جَزُورًا لَنَا فَنُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَنَا ، قَالَ : نَعَمْ " ، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ فَوَجَدْنَا الْجَزُورَ لَمْ تُنْحَرْ ، فَنُحِرَتْ ، ثُمَّ قُطِعَتْ ، ثُمَّ طُبِخَ مِنْهَا فَأَكَلْنَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ .
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی جب ہم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ہم اونٹ قربان کرنا چاہتے ہیں ہم یہ چاہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں تشریف لائیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے آپ کے ساتھ ہم بھی چلے گئے تو وہاں ہم نے یہ صورت حال پائی کہ اونٹ کو ابھی قربان نہیں کیا گیا تھا، پھر اسے قربان کیا گیا پھر اس کا گوشت بنایا گیا پھر اسے پکایا گیا تو سورج غروب ہونے سے پہلے ہم نے اسے کھا بھی لیا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1003
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 624، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1516، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2117، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1002، 1003»