سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ بَيَانِ الْمَوَاقِيتِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ باب: : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، نا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ مُوسَى بْنَ سَعْدٍ الأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَهُ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَنْحَرَ جَزُورًا لَنَا فَنُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَنَا ، قَالَ : نَعَمْ " ، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ فَوَجَدْنَا الْجَزُورَ لَمْ تُنْحَرْ ، فَنُحِرَتْ ، ثُمَّ قُطِعَتْ ، ثُمَّ طُبِخَ مِنْهَا فَأَكَلْنَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی جب ہم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ہم اونٹ قربان کرنا چاہتے ہیں ہم یہ چاہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں تشریف لائیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے آپ کے ساتھ ہم بھی چلے گئے تو وہاں ہم نے یہ صورت حال پائی کہ اونٹ کو ابھی قربان نہیں کیا گیا تھا، پھر اسے قربان کیا گیا پھر اس کا گوشت بنایا گیا پھر اسے پکایا گیا تو سورج غروب ہونے سے پہلے ہم نے اسے کھا بھی لیا۔