کتب حدیث › سنن دارمي › ابواب › باب: جب کوئی کسی نماز کی ایک رکعت پا لے تو اس نے وہ نماز پا لی
❮
❯
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ أَدْرَكَ مِنْ صَلَاةٍ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَهَا" .
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی نماز کی ایک رکعت پا لی اس نے نماز (با جماعت) کو پا لیا۔“
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1254
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف غير أن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1256]
تخریج حدیث اس روایت کی سند ضعیف لیکن حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 580] ، [مسلم 607] ، [أبويعلي 5962] ، [ابن حبان 1483] ، [الحميدي 976]
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دوسرے طریق سے اسی کے مثل مروی ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1255
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1257]
تخریج حدیث تخریج اوپر گزر چکی ہے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ يُحَدِّثُونَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ أَدْرَكَ مِنْ الصُّبْحِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا، وَمَنْ أَدْرَكَ مِنْ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص فجر کی نماز ایک رکعت سورج نکلنے سے پہلے پالے، اس نے فجر کی نماز (باجماعت کا ثواب) پا لیا، اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی نماز کی ایک رکعت کو پا لیا اس نے عصر کی نماز (باجماعت کا ثواب) پا لیا۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 1253 سے 1256)
ان احادیث کا مطلب یہ ہے: اگر کسی سے بسببِ شرعی عذر نماز میں تاخیر ہو جائے اور اسے ایک رکعت ہی مل جائے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اسے پوری نماز باجماعت ادا کرنے کا ثواب عطا کرتے ہیں اور ایک رکعت پانے کے بعد بلا تردد انہیں باقی نماز پوری کرنی چاہئے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1256
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1258]
تخریج حدیث اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 579] ، [مسلم 608] ، [ابن حبان 1484]