أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ، فَقَالَ: "تَدَعُ الصَّلَاةَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے حاملہ عورت کے بارے میں پوچھا جس کو خون آ جائے، تو انہوں نے کہا: نماز ترک کر دے گی۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَأَلْتُ , مُجَاهِدًا عَنْ امْرَأَتِي رَأَتْ دَمًا، وَأَنَا أُرَاهَا حَامِلًا، قَالَ: "ذَلِكَ غَيْضُ الْأَرْحَامِ اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثَى وَمَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ سورة الرعد آية 8، فَمَا غَاضَتْ مِنْ شَيْءٍ رَأَتْ مِثْلَهُ فِي الْحَمْلِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عثمان بن الاسود نے کہا: میں نے مجاہد سے اپنی بیوی کے بارے میں دریافت کیا جس کو خون آ گیا، میرا خیال تھا کہ وہ حامل ہے، انہوں نے کہا: یہ غیض الارحام کے قبیل سے ہے (اللہ تعالیٰ جانتا ہے مادہ اپنے شکم میں جو کچھ بھی رکھتی ہے اور پیٹ کا گھٹنا بڑھنا بھی ۔ ۔ ۔ ) [الرعد 8/13]
پس جو چیز کم ہوتی ہے اسی کے مثل حمل میں زیادہ ہو جاتی ہے۔
پس جو چیز کم ہوتی ہے اسی کے مثل حمل میں زیادہ ہو جاتی ہے۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثَى وَمَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِمِقْدَارٍ سورة الرعد آية 8، قَالَ: "ذَلِكَ الْحَيْضُ عَلَى الْحَبَلِ، لَا تَحِيضُ يَوْمًا فِي الْحَبَلِ إِلَّا زَادَتْهُ طَاهِرًا فِي حَبَلِهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عاصم الاحول نے عکرمہ سے روایت کیا کہ آیت (مادہ اپنے شکم میں کیا رکھتی ہے الله تعالیٰ اس کو بخوبی جانتا ہے اور پیٹ کا گھٹنا بڑھنا بھی، ہر چیز اس کے پاس اندازے سے ہے) [الرعد 8/13]
عکرمہ نے کہا: یہ حمل کا حیض ہے، حالت حمل میں ایک دن حیض آئے تو عورت اپنے حمل میں اس کی پاکی کا اضافہ کرتی ہے۔
عکرمہ نے کہا: یہ حمل کا حیض ہے، حالت حمل میں ایک دن حیض آئے تو عورت اپنے حمل میں اس کی پاکی کا اضافہ کرتی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَمْرٌ لَا يُخْتَلَفُ فِيهِ عِنْدَنَا، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا "الْمَرْأَةُ الْحُبْلَى إِذَا رَأَتْ الدَّمَ أَنَّهَا لَا تُصَلِّي حَتَّى تَطْهُرَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یحییٰ بن سعید نے کہا: ایک مسئلہ میں ہمارے نزدیک کوئی اختلاف نہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حاملہ عورت کو اگر خون آ جائے تو وہ نماز نہیں پڑھے گی، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے (یعنی خون رک جائے)۔
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ: وَمَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ سورة الرعد آية 8، قَالَ: "هُوَ الْحَيْضُ عَلَى الْحَبَلِ وَمَا تَزْدَادُ سورة الرعد آية 8، قَالَ: فَلَهَا بِكُلِّ يَوْمٍ حَاضَتْ فِي حَمْلِهَا يَوْمًا تَزْدَادُ فِي طُهْرِهَا حَتَّى تَسْتَكْمِلَ تِسْعَةَ أَشْهُرٍ طَاهِرًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عاصم (الاحول) نے عکرمہ سے روایت کیا کہ «وما تغيض الأرحام» سے مراد حاملہ عورت کا حیض ہے، اور «وما تزداد» کے بارے میں عکرمہ نے کہا: کہ ایسی عورت کے لئے ہر دن کے بدلے جب کے اسے حیض آتا رہے اس کے طہر میں اضافہ ہو گا، یہاں تک کہ نو مہینے پورے ہو جائیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: وَمَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ سورة الرعد آية 8، قَالَ: "إِذَا حَاضَتْ الْمَرْأَةُ وَهِيَ حَامِلٌ، قَالَ: يَكُونُ ذَلِكَ نُقْصَانًا مِنْ الْوَلَدِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى تِسْعَةِ أَشْهُرٍ، كَانَ تَمَامًا لِمَا نَقَصَ مِنْ وَلَدِهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوبشر سے مروی ہے مجاہد نے «وما تغيض الأرحام» کے بارے میں کہا: جب حاملہ عورت کو حیض آ جائے تو یہ بچے میں نقص ہے، اور جب نو مہینے سے زیادہ ہو جائے تو جو کمی ہوئی تھی وہ اس بچے کی پورتی ہے۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: "امْرَأَتِي تَحِيضُ وَهِيَ حُبْلَى".
محمد الیاس بن عبدالقادر
بکر بن عبدالله المزنی نے کہا: میری عورت کو حمل کی حالت میں حیض آتا ہے۔
قَالَ أَبُو مُحَمَّد: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ حَرْبٍ، يَقُولُ: امْرَأَتِي تَحِيضُ وَهِيَ حُبْلَى.
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابومحمد امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے سلیمان بن حرب سے سنا: وہ فرماتے تھے کہ میری بیوی کو حالت حمل میں حیض آ جاتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: "إِذَا رَأَتْ الْحُبْلَى الدَّمَ، فَلْتُمْسِكْ عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ حَيْضٌ" .
محمد الیاس بن عبدالقادر
یحییٰ بن سعید سے مروی ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حاملہ عورت جب خون دیکھے تو نماز سے رک جائے، وہ حیض کا خون ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَن عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، مِثْلُ ذَلِكَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مذکورہ بالا روایت امام مالک رحمہ اللہ کے طریق سے۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ فِي الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ "إِنْ كَانَ الدَّمُ عَبِيطًا، اغْتَسَلَتْ وَصَلَّتْ، وَإِنْ كَانَتْ تَرِيَّةً، تَوَضَّأَتْ وَصَلَّتْ" .
محمد الیاس بن عبدالقادر
لیث (بن ابی سلیم) سے مروی ہے، امام شعبی رحمہ اللہ نے اس حاملہ کے بارے میں فرمایا جس کو خون آ جائے: اگر تازہ خون ہے تو غسل کر کے نماز پڑھے، اور دوسری رطوبات ملی ہیں تو وضو کر کے نماز پڑھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، مِثْلَهُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ سے بھی اس کے مثل مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ هُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِنْ كَانَتْ تَرَاهُ كَمَا كَانَتْ تَرَاهُ قَبْلَ ذَلِكَ فِي أَقْرَائِهَا تَرَكَتْ الصَّلَاةَ، وَإِنْ كَانَ إِنَّمَا هُوَ فِي الْيَوْمِ أَوْ الْيَوْمَيْنِ، لَمْ تَدَعْ الصَّلَاةَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: حاملہ عورت اگر اسی طرح کا خون دیکھے جیسا اس سے قبل ایام ماہواری میں آتا تھا، تو نماز ترک کر دے گی، اور اگر ایک دو دن ویسے ہی خون آ جائے، تو نماز ترک نہیں کرے گی۔
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ، قَالَتْ: "لَا يَمْنَعُهَا ذَلِكَ مِنْ صَلَاةٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حامل کے بارے میں جسے خون آ جائے فرمایا: یہ خون مانع صلاۃ نہیں (یعنی نماز ترک نہ کرے)۔
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ فِي الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ، قَالَتْ: "تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي"، قَالَ يَزِيدُ: "لَا تَغْتَسِلُ"، قَالَ عَبْد اللَّهِ: أَقُولُ بِقَوْلِ يَزِيدَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حاملہ کے بارے میں روایت کیا کہ جب وہ خون دیکھے تو غسل کرے اور نماز پڑھ لے۔ یزید نے کہا: نہیں، غسل نہیں کرے گی، امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: میں بھی وہی کہتا ہوں جو یزید نے کہا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ فِي الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ، قَالَ: "هِيَ بِمَنْزِلَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ، غَيْرَ أَنَّهَا لَا تَدَعُ الصَّلَاةَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یونس بن عبید سے مروی ہے امام حسن بصری رحمہ اللہ نے حاملہ کے بارے میں فرمایا: جس کو خون آ جائے وہ مستحاضہ کے حکم میں ہے، اور نماز ترک نہیں کرے گی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ، قَالَ: "تَغْسِلُ عَنْهَا الدَّمَ، وَتَتَوَضَّأُ، وَتُصَلِّي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مغیرة (ابن مقسم) سے مروی ہے امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے حاملہ کے بارے میں جسے خون آ جائے فرمایا: خون کو دھو ڈالے، وضو کرے اور نماز پڑھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ، وَالْحَكَمِ، قَالَا: "إِذَا رَأَتْ الْحَامِلُ الدَّمَ، تَوَضَّأَتْ وَصَلَّتْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حجاج بن ارطاۃ نے عطاء اور حکم رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا: حاملہ عورت جب خون دیکھے تو وضو کر کے نماز پڑھ لے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعٍ هُوَ ابْنُ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ، قَالَ: "تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ نے حامل کے بارے میں کہا کہ جو خون دیکھے وہ وضو کرے اور نماز پڑھے گی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "هِيَ بِمَنْزِلَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ وہ مثل مستحاضہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "لَا يَكُونُ حَيْضٌ عَلَى حَمْلٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: حالت حمل میں حیض نہیں آتا۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ فِي الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ، قَالَ: "هِيَ بِمَنْزِلَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ نے حامل کے بارے میں جس کو خون آ جائے فرمایا کہ وہ مستحاضہ کی طرح ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ "إِذَا رَأَتْ الْحَامِلُ الدَّمَ لَمْ تَدَعْ الصَّلَاةَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: جب حاملہ عورت کو خون آئے تو وہ نماز ترک نہ کرے۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَطَاءٍ، وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، أنهما قَالَا فِي الْحُبْلَى: "وَالَّتِي قَعَدَتْ عَنْ الْمَحِيضِ إِذَا رَأَتْ الدَّمَ، تَوَضَّأَتَا وَصَلَّتَا، وَلَا تَغْتَسِلَانِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حجاج بن ارطاة سے مروی ہے، عطاء اور حکم بن عتیبہ رحمہما اللہ دونوں نے حاملہ کے بارے میں اور اس عورت کے بارے میں جس کا حیض ختم ہو گیا، فرمایا: یہ دونوں عورتیں جب خون دیکھیں تو وضو کریں، نماز پڑھ لیں، غسل نہیں کریں گی۔ (یعنی یہ خون حیض شمارنہیں ہو گا بلکہ مستحاضہ کا حکم ان پر لاگو ہو گا)۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "تَغْتَسِلَانِ وَتُصَلِّيَانِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ وہ دونوں عورتیں غسل کریں اور نماز پڑھیں گی۔
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "إِنَّ الْحُبْلَى لَا تَحِيضُ، فَإِذَا رَأَتْ الدَّمَ، فَلْتَغْتَسِلْ، وَلْتُصَلِّي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حاملہ کو حیض نہیں آتا ہے، جب وہ خون دیکھے تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الْمَرْأَةِ إِذَا رَأَتْ الدَّمَ وَهِيَ تَمَخَّضُ، قَالَ: "هُوَ حَيْضٌ تَتْرُكُ الصَّلَاةَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حکم بن عتبہ رحمہ اللہ سے مروی ہے امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے اس عورت کے بارے میں جس کو درد زہ کے وقت خون آ جائے فرمایا: وہ حیض کا خون ہے، لہٰذا نماز ترک کر دے گی۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ فِي الْمَرْأَةِ الْحَامِلِ "إِذَا ضَرَبَهَا الطَّلْقُ، وَرَأَتْ الدَّمَ عَلَى الْوَلَدِ، فَلْتُمْسِكْ عَنْ الصَّلَاةِ"، وقَالَ عَبْد اللَّهِ: تُصَلِّي مَا لَمْ تَضَعْ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے حاملہ عورت کے بارے میں جس کو درد شروع ہو جائے اور بچے پر خون دیکھے، فرمایا: وہ نماز نہیں پڑھے گی۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: نماز پڑھے جب تک کہ وضع حمل نہ ہو۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 955 سے 983)
حاملہ عورت یا جس عورت کا حیض کا خون آنا ختم ہو گیا ہو اس کے بارے میں صحابہ و تابعین اور فقہائے کرام کے مختلف اقوال ہیں، جس نے حیض کا خون اس کو شمار کیا نماز پڑھنے سے منع کر دیا، اور جس نے حیض شمار نہیں کیا انہوں نے صفائی کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا۔
واللہ اعلم بالصواب۔
حاملہ عورت یا جس عورت کا حیض کا خون آنا ختم ہو گیا ہو اس کے بارے میں صحابہ و تابعین اور فقہائے کرام کے مختلف اقوال ہیں، جس نے حیض کا خون اس کو شمار کیا نماز پڑھنے سے منع کر دیا، اور جس نے حیض شمار نہیں کیا انہوں نے صفائی کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا۔
واللہ اعلم بالصواب۔