أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَوَّامٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا طَهُرَتْ الْمَرْأَةُ فِي وَقْتِ صَلَاةٍ، فَلَمْ تَغْتَسِلْ وَهِيَ قَادِرَةٌ عَلَى أَنْ تَغْتَسِلَ، قَضَتْ تِلْكَ الصَّلَاةَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: جب عورت نماز کے وقت پاک ہو اور استطاعت کے باوجود غسل نہ کرے تو وہ اس نماز کو قضا کرے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا صَلَّتْ الْمَرْأَةُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ حَاضَتْ فَلَا تَقْضِي إِذَا طَهُرَتْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب عورت کو دو رکعت پڑھنے کے بعد حیض آ جائے، تو پاک ہونے کے بعد اس نماز کی قضا نہیں پڑھے گی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْمَعْمَرِيُّ أَبُو سُفْيَانَ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
اس اثر کا معنی وہی ہے جو (905) میں ذکر ہے۔
ح حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْمَرْأَةِ تَطْهُرُ عِنْدَ الظُّهْرِ، فَتُؤَخِّرُ غُسْلَهَا حَتَّى يَدْخُلَ وَقْتُ الْعَصْرِ، قَالَا: "تَقْضِي الظُّهْرَ" ..
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء نے اس عورت کے بارے میں کہا جو ظہر کے وقت پاک ہو جائے اور عصر تک غسل نہ کرے، دونوں نے کہا وہ ظہر قضا پڑھے گی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ . .
وَعُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي الْمَرْأَةِ تُفَرِّطُ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى يُدْرِكَهَا الْحَيْضُ، قَالُوا: "تُعِيدُ تِلْكَ الصَّلَاةَ" ..
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن، امام عامر شعبی و امام ابراہیم رحمہم اللہ سے اس عورت کے بارے میں مروی ہے جو نماز میں کوتاہی کرے اور اسے حیض آ جائے، انہوں نے کہا: اس نماز کو وہ (قضا) پڑھے گی (یعنی طہر کے بعد اسے وہ نمازیں پڑھنی ہوں گی)۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَيُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، فِي امْرَأَةٍ حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَفَرَّطَتْ حَتَّى حَاضَتْ، قَالَا: "تَقْضِي تِلْكَ الصَّلَاةَ إِذَا اغْتَسَلَتْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ نے اس عورت کے بارے میں فرمایا جو کوتاہی کرے، نماز کا وقت آئے نماز نہ پڑھے حتی کہ اسے حیض شروع ہو جائے، تو وہ نماز نہانے کے بعد قضا پڑھے گی۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، وَقَتَادَةَ، قَالَا: "إِذَا ضَيَّعَتْ الْمَرْأَةُ الصَّلَاةَ حَتَّى تَحِيضَ، فَعَلَيْهَا الْقَضَاءُ إِذَا طَهُرَتْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن اور قتادۃ نے کہا: عورت نماز ضائع کر دے اور حیض آ جائے تو اس پر پاکی کے بعد (اس نماز کی) قضا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "إِذَا فَرَّطَتْ ثُمَّ حَاضَتْ، قَضَتْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: جب عورت کوتاہی کرے اور حیض آ جائے تو (اس نماز کی) قضا کرے گی۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 902 سے 914)
ان تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جو عورت نماز کے وقت سستی کرے اور نماز پڑھنے کی جلدی کوشش نہ کرے اور اس کو نماز کے وقت حیض آنے لگ جائے تو وہ صرف اسی نماز کی قضا کرے گی جس کو سستی اور کاہلی میں ادا نہیں کر سکی، باقی نمازیں اس پر معاف ہوں گی۔
ان تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جو عورت نماز کے وقت سستی کرے اور نماز پڑھنے کی جلدی کوشش نہ کرے اور اس کو نماز کے وقت حیض آنے لگ جائے تو وہ صرف اسی نماز کی قضا کرے گی جس کو سستی اور کاہلی میں ادا نہیں کر سکی، باقی نمازیں اس پر معاف ہوں گی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: حَدَّثَنَا عَنْ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِي يُوسُفَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: "إِذَا حَاضَتْ الْمَرْأَةُ فِي وَقْتِ الصَّلَاةِ، فَلَيْسَ عَلَيْهَا الْقَضَاءُ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يَعْقُوبُ هُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ قَاضِي مَرْوٍ، وَأَبُو يُوسُفَ شَيْخٌ مَكِّيٌّ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: نماز کے وقت میں عورت کو حیض آ جائے تو اس پر کوئی قضا نہیں ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: یعقوب: ابن القعقاع قاضی مرد اور ابویوسف: شیخ مکی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، وَقَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "إِذَا طَهُرَتْ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، صَلَّتْ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَإِذَا طَهُرَتْ قَبْلَ الْفَجْرِ، صَلَّتْ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ" . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا : عورت جب مغرب سے پہلے پاک ہو جائے تو ظہر و عصر بھی پڑھے گی اور فجر سے پہلے پاک ہو تو مغرب عشاء بھی پڑھے گی ۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، مِثْلَهُ . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید ابن المسیب رحمہ اللہ سے بھی مذکورہ بالا روایت منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنهُمَا، مِثْلَهُ ..
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے مثل منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ فِي الْحَائِضِ "تُصَلِّي الصَّلَاةَ الَّتِي طَهُرَتْ فِي وَقْتِهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عورت جس نماز کے وقت پاک ہوئی وہ نماز پڑھے گی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، قَالُوا: "إِذَا طَهُرَتْ الْحَائِضُ قَبْلَ الْفَجْرِ، صَلَّتْ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، وَإِذَا طَهُرَتْ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، صَلَّتْ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء، طاؤس اور مجاہد رحمہم اللہ نے کہا کہ حائضہ عورت جب نماز فجر سے پہلے پاک ہو جائے تو مغرب و عشاء بھی پڑھے اور جب غروب آفتاب سے قبل پاک ہو جائے تو ظہر اور عصر بھی پڑھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الْحَكَمِ فِي الْحَائِضِ "إِذَا رَأَتْ الطُّهْرَ آخِرَ النَّهَارِ، صَلَّتْ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَإِذَا طَهُرَتْ آخِرَ اللَّيْلِ، صَلَّتْ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ" . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
حکم نے حائضہ کے بارے میں فرمایا کہ جب وہ دن کے آخر میں پاکی دیکھے تو ظہر و عصر ادا کرے اور رات کے آخری وقت میں طہارت دیکھے تو مغرب و عشاء بھی پڑھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، مِثْلَهُ . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام طاؤس رحمہ اللہ سے بھی مثل سابق مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: كَانَ إِبْرَاهِيمُ، يَقُولُ: "إِذَا طَهُرَتْ عِنْدَ الْعَصْرِ، صَلَّتْ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مغیرہ سے مروی ہے امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے تھے: عصر کے وقت عورت اگر پاک ہو تو ظہر و عصر پڑھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ شُعْبَةُ: سَأَلْتُ حَمَّادًا، قَالَ: "إِذَا طَهُرَتْ فِي وَقْتِ صَلَاةٍ صَلَّتْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبہ نے کہا: میں نے حماد (بن ابی سلیمان) سے پوچھا: جب عورت نماز کے وقت میں پاک ہو تو؟ انہوں نے کہا: نماز پڑھے۔
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يُونُسَ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِذَا طَهُرَتْ فِي وَقْتِ صَلَاةٍ، صَلَّتْ تِلْكَ الصَّلَاةَ، وَلَا تُصَلِّي غَيْرَهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب عورت کسی نماز کے وقت میں پاک ہو تو وہ نماز پڑھے، اور دوسری نماز نہیں پڑھے گی۔
قَالَ أَبُو مُحَمَّد: قَرَأْتُ عَلَى زَيْدِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنْ الْمَرْأَةِ تَطْهُرُ بَعْدَ الْعَصْرِ، قَالَ: "تُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ"، قُلْتُ: فَإِنْ كَانَ طُهْرُهَا قَرِيبًا مِنْ مَغِيبِ الشَّمْسِ، قَالَ: "تُصَلِّي الْعَصْرَ وَلَا تُصَلِّي الظُّهْرَ، وَلَوْ أَنَّهَا لَمْ تَطْهُرْ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ، لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا شَيْءٌ"، سُئِلَ عَبْد اللَّهِ تَأْخُذُ بِهِ ؟، قَالَ: لَا.
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: میں نے زید بن یحییٰ کے پاس امام مالک رحمہ اللہ سے یہ قول پڑھا کہ جو عورت عصر کے بعد پاک ہو تو؟ انہوں نے کہا: ظہر و عصر (دونوں) پڑھے گی۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: اگر طہر کا وقت غروب آفتاب سے کچھ پہلے ہو تو صرف عصر پڑھے گی ظہر نہیں، اور اگر وہ غروب شمس کے بعد پاک ہو تو اس پر کچھ واجب نہیں، امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا آپ کا بھی یہی قول ہے؟ کہا: نہیں۔