أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَتَّابٌ هُوَ ابْنُ بَشِيرٍ الْجَزَرِيُّ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: "لَمْ يَرَ بَأْسًا أَنْ يَأْتِيَهَا زَوْجُهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عکرمہ سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا مستحاضہ سے اس کے شوہر کے جماع کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ، قَالَ: سُئِلَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: أَتُجَامَعُ الْمُسْتَحَاضَةُ ؟، فَقَالَ: "الصَّلَاةُ أَعْظَمُ مِنْ الْجِمَاعِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سالم الافطس نے کہا: سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا مستحاضہ سے جماع کیا جا سکتا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: نماز جماع سے زیادہ بڑی چیز ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: "يَأْتِيهَا زَوْجُهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سمی سے مروی ہے، سعید بن المسيب رحمہ اللہ نے فرمایا: اس کا شوہر جماع کر سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ، قَالَ: "يَغْشَاهَا زَوْجُهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یونس سے مروی ہے، امام حسن رحمہ اللہ نے مستحاضہ کے بارے میں فرمایا: اس کا شوہر جماع کر سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: "يَغْشَاهَا زَوْجُهَا وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن مسلمہ سے مروی ہے، سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے مستحاضہ کے بارے میں فرمایا: اس کا شوہر اس سے جماع کر سکتا ہے، چاہے خون چٹائی پر ہی کیوں نہ آ جائے۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: قِيلَ لِبَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، إِنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ، يَقُولُ: "إِنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ لَا يَغْشَاهَا زَوْجُهَا"، قَالَ بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ: "الصَّلَاةُ أَعْظَمُ حُرْمَةً يَغْشَاهَا زَوْجُهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حمید سے مروی ہے، بکر بن عبداللہ سے کہا گیا کہ حجاج بن یوسف کہتے ہیں کہ مستحاضہ عورت سے اس کا شوہر جماع نہیں کر سکتا ہے، بکر بن عبدالله المزنی نے فرمایا: نماز اس سے زیادہ حرمت والی ہے، شوہر جماع کر سکتا ہے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "يَأْتِيهَا زَوْجُهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حمید سے مروی ہے، امام حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: شوہر جماع کر سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: "يُجَامِعُهَا زَوْجُهَا، تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضِهَا، فَإِذَا حَلَّتْ لَهَا الصَّلَاةُ، فَلْيَطَأْهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء نے مستحاضہ کے بارے میں فرمایا: اس کا شوہر جماع کر سکتا ہے، وہ ایام حیض میں نماز ترک کر دے گی، جب نماز اس کے لئے جائز ہو گی، جماع بھی جائز ہو گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ زُرْعَةَ الْخَارِفِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "الْمُسْتَحَاضَةُ يُجَامِعُهَا زَوْجُهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مستحاضہ سے اس کا شوہر جماع کر سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَالْحَسَنِ، وَعَطَاءٍ، قَالُوا فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: "تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَيَغْشَاهَا زَوْجُهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
قتادہ سے مروی ہے: سعید بن المسيب، حسن و عطاء نے مستحاضہ کے بارے میں فرمایا: غسل کر کے نماز پڑھے گی، رمضان کے روزے رکھے گی، اور اس کا شوہر اس سے جماع کر سکتا ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 831 سے 849)
ان تمام آثار سے معلوم ہوا کہ مستحاضہ مدتِ حیض گذر جانے کے بعد غسل کر کے نماز بھی پڑھے گی، روزے بھی رکھے گی اور اس کا شوہر اس سے جماع بھی کر سکتا ہے۔
یہی راجح مسلک ہے۔
ان تمام آثار سے معلوم ہوا کہ مستحاضہ مدتِ حیض گذر جانے کے بعد غسل کر کے نماز بھی پڑھے گی، روزے بھی رکھے گی اور اس کا شوہر اس سے جماع بھی کر سکتا ہے۔
یہی راجح مسلک ہے۔