سنن دارمي
من كتاب الطهارة— وضو اور طہارت کے مسائل
باب في الْحُبْلَى إِذَا رَأَتِ الدَّمَ: باب: حاملہ عورت کا بیان جس کو خون آ جائے
حدیث نمبر: 961
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: وَمَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ سورة الرعد آية 8، قَالَ: "إِذَا حَاضَتْ الْمَرْأَةُ وَهِيَ حَامِلٌ، قَالَ: يَكُونُ ذَلِكَ نُقْصَانًا مِنْ الْوَلَدِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى تِسْعَةِ أَشْهُرٍ، كَانَ تَمَامًا لِمَا نَقَصَ مِنْ وَلَدِهَا".محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوبشر سے مروی ہے مجاہد نے «وما تغيض الأرحام» کے بارے میں کہا: جب حاملہ عورت کو حیض آ جائے تو یہ بچے میں نقص ہے، اور جب نو مہینے سے زیادہ ہو جائے تو جو کمی ہوئی تھی وہ اس بچے کی پورتی ہے۔