سنن دارمي
من كتاب الطهارة— وضو اور طہارت کے مسائل
باب مَا جَاءَ في أَكْثَرِ الْحَيْضِ: باب: حیض کی اکثر مدت کا بیان
حدیث نمبر: 866
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ مُهَلْهَلٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "أَقْصَى الْحَيْضِ خَمْسَ عَشْرَةَ".محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء نے کہا: حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت پندرہ دن ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 855 سے 866)
حیض کی مدت کے بارے میں اختلاف ہے، عموماً سات دن ہوا کرتی ہے، اس باب میں جو اقوال ہیں وہ علمائے کرام کے اجتہادات ہیں اور اس بارے میں کوئی صحیح حدیث مروی نہیں ہے۔
نیز یہ کہ ہر عورت اپنے ایامِ ماہواری کی مدت اچھی طرح جانتی ہے۔
حیض کی مدت کے بارے میں اختلاف ہے، عموماً سات دن ہوا کرتی ہے، اس باب میں جو اقوال ہیں وہ علمائے کرام کے اجتہادات ہیں اور اس بارے میں کوئی صحیح حدیث مروی نہیں ہے۔
نیز یہ کہ ہر عورت اپنے ایامِ ماہواری کی مدت اچھی طرح جانتی ہے۔