حدیث نمبر: 855
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "تُمْسِكُ الْمَرْأَةُ عَنْ الصَّلَاةِ فِي حَيْضِهَا سَبْعًا، فَإِنْ طَهُرَتْ، فَذَاكَ، وَإِلَّا أَمْسَكَتْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعَشْرَةَ، فَإِنْ طَهُرَتْ، فَذَاكَ، وَإِلَّا اغْتَسَلَتْ وَصَلَّتْ، وَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

یونس (بن عبيد) سے مروی ہے امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: عورت اپنے حیض کے دوران سات دن تک نماز سے رکی رہے گی، پھر اگر پاکی حاصل ہو گئی تو ٹھیک ہے ورنہ حیض کے شروع ہونے سے دس دن تک نماز سے رکی رہے گی، دس دن پر پاک ہو جائے تو ٹھیک ورنہ پھر غسل کر کے نماز پڑھے گی اور وہ مستحاضہ شمار ہو گی۔

وضاحت:
(تشریح حدیث 854)
یعنی حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت اس قول کے مطابق دس دن ہے اور دس دن کے بعد وہ مستحاضہ شمار ہوگی اور اس کا حکم اس پر لاگو ہوگا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 855
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 859]
تخریج حدیث اس قول کی سند صحیح ہے، لیکن امام دارمی کے علاوہ اور کسی نے روایت نہیں کیا۔ نیز اسی قسم کی روایت (985) میں آرہی ہے۔