حدیث نمبر: 39
أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ قَبْلَ أَنْ يَتَّخِذَ الْمِنْبَرَ، فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ وَتَحَوَّلَ إِلَيْهِ، حَنَّ الْجِذْعُ، فَاحْتَضَنَهُ، فَسَكَنَ"، وَقَالَ: "لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ، لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، .
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر بنائے جانے سے پہلے ایک تنے کا سہارا لے کر خطبہ دیا کرتے تھے، پھر جب منبر بن گیا اور آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے تو وہ تنا رونے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چمٹا لیا تو وہ خاموش ہو گیا، فرمایا: ”میں اگر اسے چمٹاتا نہیں تو یہ قیامت تک روتا رہتا۔“

حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 39
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 39]» ¤ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 249/1] ، [مصنف ابن ابي شيبة 11795]
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 1415