حدیث نمبر: 3502
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: "الْقِنْطَارُ: سَبْعُونَ أَلْفَ مِثْقَالٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: (قنطار) ستر ہزار مثقال کا ہوتا ہے۔

وضاحت:
(تشریح احادیث 3495 سے 3502)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کے قنطار کی مقدار کے بارے میں مختلف اقوال ہیں، اور سیاق و سباق اور لغت میں بہت سارے، ڈھیر سارے مال و ذخیرے کو کہتے ہیں، اور مختلف ازمان میں اس کی مقدار مختلف بتائی گئی ہے۔
اس لئے قنطار کی تحدید ممکن نہیں۔
«واللّٰه أعلم بالصواب.»
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب فضائل القرآن / حدیث: 3502
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف لضعف ليث وهو: ابن أبي سليم وهو موقوف على مجاهد، [مكتبه الشامله نمبر: 3513]
تخریج حدیث لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے یہ اثر ضعیف ہے، اور مجاہد رحمہ اللہ پر موقوف بھی ہے۔