حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا، أَبَانُ الْعَطَّارُ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: "الْقِنْطَارُ: اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: قنطار بارہ ہزار کا ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْعَبْدِيِّ، قَالَ: "الْقِنْطَارُ: مِلْءُ مَسْكِ ثَوْرٍ ذَهَبًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابونضرہ العبدی نے کہا: قنطار بیل کی سونے سے بھری ہوئی کھال کے برابر ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: "الْقِنْطَارُ: أَرْبَعُونَ أَلْفًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن المسيب رحمہ اللہ نے کہا: قنطار چالیس ہزار کا ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاق، عَنْ مُبَارَكٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "الْقِنْطَارُ دِيَةُ أَحَدِكُمْ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: قنطار تم میں سے کسی کی دیت کے مطابق بارہ ہزار ہے۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاق، عَنْ مُسْلِمٍ هُوَ الزَّنْجِيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: "الْقِنْطَارُ: سَبْعُونَ أَلْفَ دِينَارٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: قنطار ستر ہزار کا ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: "الْقِنْطَارُ: أَلْفُ أُوقِيَّةٍ وَمِائَتَا أُوقِيَّةٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: قنطار بارہ ہزار اوقیہ کا ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: "الْقِنْطَارُ: سَبْعُونَ أَلْفَ مِثْقَالٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: (قنطار) ستر ہزار مثقال کا ہوتا ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3495 سے 3502)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کے قنطار کی مقدار کے بارے میں مختلف اقوال ہیں، اور سیاق و سباق اور لغت میں بہت سارے، ڈھیر سارے مال و ذخیرے کو کہتے ہیں، اور مختلف ازمان میں اس کی مقدار مختلف بتائی گئی ہے۔
اس لئے قنطار کی تحدید ممکن نہیں۔
«واللّٰه أعلم بالصواب.»
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کے قنطار کی مقدار کے بارے میں مختلف اقوال ہیں، اور سیاق و سباق اور لغت میں بہت سارے، ڈھیر سارے مال و ذخیرے کو کہتے ہیں، اور مختلف ازمان میں اس کی مقدار مختلف بتائی گئی ہے۔
اس لئے قنطار کی تحدید ممکن نہیں۔
«واللّٰه أعلم بالصواب.»