کتب حدیث ›
بلوغ المرام › ابواب
› باب: مجرم ( بدنی نقصان پہنچانے والے ) سے لڑنے اور مرتد کو قتل کرنے کا بیان
عن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : «من قتل دون ماله فهو شهيد » رواه أبو داود والنسائي والترمذي وصححه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جو کوئی اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے تو وہ شہید ہے ۔ “ اسے ابوداؤد ، نسائی اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے ۔
وعن عمران بن حصين رضي الله عنه قال : قاتل يعلى بن أمية رجلا فعض أحدهما صاحبه فانتزع يده من فمه فنزع ثنيته فاختصما إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال :« يعض أحدكم كما يعض الفحل ؟ لا دية له» متفق عليه واللفظ لمسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کی ایک شخص سے لڑائی ہو گئی ۔ ایک نے دوسرے کو دانتوں سے کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچ کر باہر نکالا تو اس کا سامنے کا دانت ٹوٹ کر گر گیا ۔ دونوں اپنا جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں لے گئے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ کیا تم ایک دوسرے کو اس طرح کاٹ کھاتے ہو جس طرح نر اونٹ کاٹتا ہے ۔ اس کے لیے کوئی دیت نہیں ۔ “ ( بخاری و مسلم ) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں ۔
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال أبو القاسم صلى الله عليه وآله وسلم :« لو أن امرأ اطلع عليك بغير إذن فحذفته بحصاة ففقأت عينه لم يكن عليك جناح». متفق عليه وفي لفظ لأحمد والنسائي وصححه ابن حبان : « فلا دية له ولا قصاص ».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اگر کوئی مرد تیرے گھر بغیر اجازت کے جھانکے ( نظر ڈالے ) اور تو کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دے تو تم پر کوئی گناہ نہیں ۔ “ ( بخاری و مسلم ) احمد اور نسائی کے الفاظ ہیں جسے ابن حبان نے صحیح کہا ہے کہ ’’ نہ اس کی دیت ہے اور نہ قصاص ۔ “
وعن البراء بن عازب رضي الله عنه قال : قضى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أن حفظ الحوائط بالنهار على أهلها وأن حفظ الماشية بالليل على أهلها وأن على أهل الماشية ما أصابت ماشيتهم بالليل. رواه أحمد والأربعة إلا الترمذي وصححه ابن حبان وفي إسناده اختلاف.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ ’’ دن کے اوقات میں باغوں کی حفاظت و نگرانی مالکان باغ کریں اور رات کے اوقات میں مویشیوں کی حفاظت مالکان مویشی کریں ۔ رات کے اوقات میں جس قدر مویشی کسی کا نقصان کریں گے اس کا تاوان مویشیوں کے مالکان پر ہو گا ۔ “ اس حدیث کو احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے سوائے ترمذی کے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے تاہم اس کی سند میں اختلاف ہے ۔
وعن معاذ بن جبل رضي الله عنه في رجل أسلم ثم تهود : " لا أجلس حتى يقتل قضاء الله ورسوله " فأمر به فقتل. متفق عليه وفي رواية لأبي داود : " وكان قد استتيب قبل ذلك ".
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے` ایسے شخص کے متعلق جو پہلے اسلام لایا پھر یہودی ہو گیا تھا مروی ہے کہ میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا تاوقتیکہ اس کو قتل کر دیا جائے ۔ یہ اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ ہے ۔ چنانچہ اس کے قتل کا حکم دیا گیا اور اسے قتل کر دیا گیا ۔ ( بخاری ومسلم ) ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ اسے قتل سے پہلے توبہ کرنے کے لئے کہا گیا ۔
وعن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « من بدل دينه فاقتلوه ». رواه البخاري.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جو شخص اپنا دین بدل لے اسے قتل کر دو ۔ “ ( بخاری )
وعنه رضي الله تعالى عنه أن أعمى كانت له أم ولد تشتم النبي صلى الله عليه وآله وسلم وتقع فيه فينهاها فلا تنتهي فلما كان ليلة أخذ المعول فجعله في بطنها واتكأ عليها فقتلها فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال : « ألا اشهدوا فإن دمها هدر ». رواه أبو داود ورواته ثقات.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے مروی ہے کہ` ایک نابینا شخص تھا ، اس کی ایک ام ولد لونڈی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتی اور برا بھلا کہتی تھی ۔ وہ نابینا صحابی رضی اللہ عنہ اسے منع کرتے مگر وہ باز نہ آتی ۔ ایک رات انہوں نے کدال لے کر اس کے پیٹ پر رکھ کر اس پر اپنا بوجھ ڈال کر دبایا اور اسے قتل کر دیا ۔ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ تم گواہ رہو اس کا خون رائیگاں اور بیکار گیا ۔ “ ( ابوداؤد ) اس کے راوی ثقہ ہیں ۔