عن ابن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « من حمل علينا السلاح فليس منا » متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جس کسی نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھایا ۔ اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ۔ “ ( بخاری و مسلم )
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « من خرج عن الطاعة وفارق الجماعة ومات فميتته ميتة جاهلية ». أخرجه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ جس کسی نے امام کی اطاعت سے خروج کیا اور مسلمانوں کی جماعت سے جدا ہو گیا اور اسی حالت میں مر گیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی ۔ “ ( مسلم )
وعن أم سلمة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « تقتل عمارا الفئة الباغية ». رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا ۔ “ ( مسلم )
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « هل تدري يا ابن أم عبد كيف حكم الله فيمن بغى من هذه الأمة ؟ » قال : الله ورسوله أعلم قال : « لا يجهز على جريحها ولا يقتل أسيرها ولا يطلب هاربها ولا يقسم فيئها ». رواه البزار والحاكم وصححه فوهم لأن في إسناده كوثر بن حكيم وهو متروك وصح عن علي من طرق نحوه موقوفا أخرجه ابن أبي شيبة والحاكم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اے ام عبد کے بیٹے ! کیا تجھے معلوم ہے کہ اس امت کے باغی کے متعلق اللہ تعالیٰ کا کیا حکم ہے ؟ “ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اس کے زخمیوں کو ختم نہیں کیا جائے گا اور نہ اس کے قیدیوں کو قتل کیا جائے گا اور نہ بھاگنے والے کا پیچھا و تعاقب کیا جائے گا اور نہ ہی اس کے مال غنیمت کو تقسیم کیا جائے گا ۔ “ اس روایت کو بزار اور حاکم نے روایت کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ مگر یہ حاکم کا وہم ہے اس لئے کہ اس کی سند میں کوثر بن حکیم متروک راوی ہے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے موقوفاً اس کی مانند کئی طرق سے مروی ہے جو صحیح ہے ۔ اسے ابن ابی شیبہ اور حاکم نے نکالا ہے ۔
وعن عرفجة بن شريح رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول : « من أتاكم وأمركم جميع يريد أن يفرق جماعتكم فاقتلوه ». أخرجه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عرفجہ بن شریح کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ’’ جو شخص تمہارے پاس آئے حالانکہ تم ایک امیر پر متفق ہو اور وہ تمہاری جماعت میں تفریق پیدا کرنا چاہتا ہو تو اسے قتل کر دو ۔ “ ( صحیح مسلم )