حدیث نمبر: 711
وعن ابن عمر رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم نهى عن بيع الكالىء بالكالىء. يعني الدين بالدين. رواه إسحاق والبزار بإسناد ضعيف.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھار کے بدلہ ادھار یعنی قرض کے بدلہ قرض کو فروخت کرنا ممنوع فرمایا ہے ۔ اسے اسحٰق اور بزار نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 711
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´سود کا بیان`
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھار کے بدلہ ادھار یعنی قرض کے بدلہ قرض کو فروخت کرنا ممنوع فرمایا ہے۔ اسے اسحٰق اور بزار نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 711»
تخریج:
«أخرجه البزار، كشف الأستار:1 /91، 92.* فيه موسي بن عبيدة وهو ضعيف.»
تشریح: 1. مذکورہ روایت باتفاق محققین ضعیف ہے جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے اور مذکورہ روایت پر بحث کرتے ہوئے امام احمد کا قول نقل کیا ہے کہ مذکورہ مسئلے میں کوئی روایت صحیح نہیں ہے لیکن لوگوں کا اجماع ہے کہ ادھار کی ادھار کے بدلے میں بیع جائز نہیں ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (إرواء الغلیل:۵ /۲۲۰- ۲۲۲‘ رقم:۱۳۸۲) بنابریں روایت میں مذکورہ مسئلہ صحیح اور درست ہے کہ ادھار کی ادھار کے بدلے میں خرید و فروخت منع ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
2. اس کی دو صورتیں ہیں‘ مثلاً: ٭ اسلم نے احمد سے ایک گھڑی پانچ سو روپے میں ایک سال کی مدت پر ادھار خریدی۔
جب سال بھر کی مدت پوری ہوگئی تو اسلم احمد سے کہتا ہے میں رقم کا بندوبست نہیں کر سکا۔
مجھے ازسر نو چھ سوروپے میں‘ یعنی سو روپے زائد پر فروخت کر دے۔
اس طرح گویا اسلم نے احمد کو سو روپیہ مزید مہلت کا دیا ہے۔
٭ زید نے خالد سے سو روپیہ لینا ہے اور صادق نے خالد سے کوئی کپڑا لینا ہے تو صادق زید سے کہے جو کپڑا میں نے خالد سے لینا ہے وہ میں تیرے پاس سو روپے میں فروخت کرتا ہوں‘ یہ بیع بھی ناجائز ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 711 سے ماخوذ ہے۔