حدیث نمبر: 708
وعنه : أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أمره أن يجهز جيشا فنفدت الإبل فأمره أن يأخذ على قلائص الصدقة قال : فكنت آخذ البعير بالبعيرين إلى إبل الصدقة. رواه الحاكم والبيهقي ورجاله ثقات.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک لشکر کی تیاری کا حکم دیا ۔ اونٹ ختم ہو گئے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صدقہ کے اونٹوں پر ( ادھار اونٹ ) لینے کا حکم ارشاد فرمایا راوی کہتے ہیں میں ایک اونٹ ، صدقہ کے دو اونٹوں کے بدلہ لیتا تھا ۔ اسے حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے اس کے ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 708
درجۂ حدیث محدثین: حسن
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3357

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´سود کا بیان`
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک لشکر کی تیاری کا حکم دیا۔ اونٹ ختم ہو گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صدقہ کے اونٹوں پر (ادھار اونٹ) لینے کا حکم ارشاد فرمایا راوی کہتے ہیں میں ایک اونٹ، صدقہ کے دو اونٹوں کے بدلہ لیتا تھا۔ اسے حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے اس کے ثقہ ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 708»
تخریج:
«أخرجه الحاكم:2 /57، والبيهقي:5 /288، وأبوداود، البيوع، حديث:3357.»
تشریح: حیوانات کو بطور قرض خریدنا جائز ہے بشرطیکہ ایک طرف سے نقد اور دوسری طرف سے ادھار ہو‘ جیسے کہ مذکورہ روایت میں ہے‘ مگر دونوں طرف سے ادھار بالکل ناجائزہے۔
امام شافعی ‘ امام مالک رحمہما اللہ اور جمہور اس بیع کو جائز کہتے ہیں جبکہ احناف حیوانات کا قرض لینا جائز نہیں سمجھتے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 708 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3357 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جانور کے بدلے جانور کو ادھار بیچنے کے جواز کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک لشکر تیار کرنے کا حکم دیا، تو اونٹ کم پڑ گئے تو آپ نے صدقہ کے جوان اونٹ کے بدلے اونٹ (ادھار) لینے کا حکم دیا تو وہ صدقہ کے اونٹ آنے تک کی شرط پر دو اونٹ کے بدلے ایک اونٹ لیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3357]
فوائد ومسائل:

ایک طرف سے نقد اوردوسری طرف سے ادھار ہو تو جائز ہے۔
جیسے کہ اس حدیث میں ہے۔
مگر دونوں طرف سے ادھار بالکل ناجائز ہے۔


سابقہ باب کی حدیث سے بھی جانوروں کی جانوروں سے بیع میں کمی بیشی اور ایک طرف کے ادھار کا جواز واضح ہوتا ہے۔
یہ دونوں حدیثیں ان لوگوں کے خلاف حجت ہیں۔
جو ناپ تول کی طرح گننے کی اشیاء کو بھی ربا تعداد کو بھی ربا الفضل کی علت میں شامل کرتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے (درهما بدرهمين يا دينار ا بدينارين) فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ درہم ودینار کا انحصار وزن پر تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3357 سے ماخوذ ہے۔