حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 707
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال : لعن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم الراشي والمرتشي. رواه أبو داود والترمذي وصححه.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ۔ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے ۔
حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 707
درجۂ حدیث محدثین: حسن
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1337 | سنن ابي داود: 3580 | سنن ابن ماجه: 2313 | معجم صغير للطبراني: 986
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3580 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´رشوت کی حرمت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے، اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3580]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے، اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3580]
فوائد ومسائل:
فائدہ: کسی دوسرے کا حق مارنے کےلئے کسی حاکم قاضی یا اہلکار کو کچھ دینا رشوت اور حرام ہے۔
لیکن اگر کوئی ہلکار ظاہم ہو اور حقداروں کے حقوق بھی اس کے پاس محفوظ نہ رہتے ہوں یا وہ لوگوں سے طلب کرتا ہو یا اسے دینا پڑتا ہو تواصل عزیمت یہی ہے کہ اسے کچھ نہ دیا جائے۔
اور وہ معاملہ اللہ پر چھوڑتے ہوئے اس ظاہم سے چھٹکارے کی سبیل کی جائے۔
اور اگر یہ ممکن نہ ہو اور صرف اور صرف اپنے جائز حق کےلئے شدید مجبوری کی صورت میں کبھی کچھ دینا پڑ جائے۔
تو اس پر کثرت سے استفغار کرے۔
لینے والے کے حق میں یہ یقیناً رشوت اور حرام ہے۔
بلکہ صاحب حق کو مجبور کرنے کی سزا کا بھی مستحق ہے۔
واللہ اعلم۔
فائدہ: کسی دوسرے کا حق مارنے کےلئے کسی حاکم قاضی یا اہلکار کو کچھ دینا رشوت اور حرام ہے۔
لیکن اگر کوئی ہلکار ظاہم ہو اور حقداروں کے حقوق بھی اس کے پاس محفوظ نہ رہتے ہوں یا وہ لوگوں سے طلب کرتا ہو یا اسے دینا پڑتا ہو تواصل عزیمت یہی ہے کہ اسے کچھ نہ دیا جائے۔
اور وہ معاملہ اللہ پر چھوڑتے ہوئے اس ظاہم سے چھٹکارے کی سبیل کی جائے۔
اور اگر یہ ممکن نہ ہو اور صرف اور صرف اپنے جائز حق کےلئے شدید مجبوری کی صورت میں کبھی کچھ دینا پڑ جائے۔
تو اس پر کثرت سے استفغار کرے۔
لینے والے کے حق میں یہ یقیناً رشوت اور حرام ہے۔
بلکہ صاحب حق کو مجبور کرنے کی سزا کا بھی مستحق ہے۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3580 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2313 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ظلم اور رشوت پر وارد وعید کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2313]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2313]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رشوت دینے کی ضرورت تبھی پیش آتی ہے جب کوئی شخص غلط موقف پر ہونے کے باوجود اپنے حق میں فیصلہ کرانا چاہتاہے۔
اس طرح رشوت دینے والا حق دار کا حق بھی مارتا ہے اور قاضی کو بھی گناہ پر آمادہ کرتا ہے۔
یہ دگنا گناہ اسے اللہ کی رحمت سے محروم کر دیتا ہے۔
(2)
رشوت لینے والا دنیا کے معمولی سے مفاد کے لیے ایک بے گناہ پر ظلم کرتا ہے اور اس سے اس کا حق چھین لیتا ہے حالانکہ اسے مقرر ہی اس لیے کیا گیا ہے کہ دوسروں کو ظلم سے روکے۔
اس لحاظ سے اس کا گناہ دوسرے ظالم سے کہیں زیادہ سنگین ہو جاتا ہے اس لیے وہ بھی اللہ کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے۔
(3)
لعنت کا مطلب اللہ کی رحمت سے محروم ہونا اللہ کا کسی بندے کو اس کے کسی جرم کی وجہ سے اپنی رحمت سے محروم کرنا ہے۔
لعنت کا مطلب کسی کو یہ بددعا دینا بھی ہے کہ وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہو جائے۔
(4)
«راشی» رشوت دینے والے کو «مرتشی» رشوت لینے والے کو اور «رائش» ان دونوں کے درمیان معاملہ طے کرانے والے کو کہتے ہیں۔
یہ سب بڑے گناہ گار ہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
رشوت دینے کی ضرورت تبھی پیش آتی ہے جب کوئی شخص غلط موقف پر ہونے کے باوجود اپنے حق میں فیصلہ کرانا چاہتاہے۔
اس طرح رشوت دینے والا حق دار کا حق بھی مارتا ہے اور قاضی کو بھی گناہ پر آمادہ کرتا ہے۔
یہ دگنا گناہ اسے اللہ کی رحمت سے محروم کر دیتا ہے۔
(2)
رشوت لینے والا دنیا کے معمولی سے مفاد کے لیے ایک بے گناہ پر ظلم کرتا ہے اور اس سے اس کا حق چھین لیتا ہے حالانکہ اسے مقرر ہی اس لیے کیا گیا ہے کہ دوسروں کو ظلم سے روکے۔
اس لحاظ سے اس کا گناہ دوسرے ظالم سے کہیں زیادہ سنگین ہو جاتا ہے اس لیے وہ بھی اللہ کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے۔
(3)
لعنت کا مطلب اللہ کی رحمت سے محروم ہونا اللہ کا کسی بندے کو اس کے کسی جرم کی وجہ سے اپنی رحمت سے محروم کرنا ہے۔
لعنت کا مطلب کسی کو یہ بددعا دینا بھی ہے کہ وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہو جائے۔
(4)
«راشی» رشوت دینے والے کو «مرتشی» رشوت لینے والے کو اور «رائش» ان دونوں کے درمیان معاملہ طے کرانے والے کو کہتے ہیں۔
یہ سب بڑے گناہ گار ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2313 سے ماخوذ ہے۔