حدیث نمبر: 697
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال : « لا تبيعوا الذهب بالذهب إلا مثلا بمثل ولا تشفوا بعضها على بعض ولا تبيعوا الورق بالورق إلا مثلا بمثل ولا تشفوا بعضها على بعض ولا تبيعوا منها غائبا بناجز ». متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” سونے کو سونے کے بدلہ میں فروخت نہ کرو ، مگر برابر برابر اور ایک دوسرے کے وزن میں ( کمی ) بیشی نہ کرو ۔ نیز چاندی کو چاندی کے بدلہ میں فروخت نہ کرو ، مگر برابر برابر اور ایک دوسرے کے وزن میں ( کمی ) بیشی نہ کرو اور ان میں غیر موجود کے بدلہ میں موجود کو نہ بیچو ۔ “ ( بخاری و مسلم )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 697
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري، البيوع، باب بيع الفضة بالفضة، حديث:2177، ومسلم، المساقاة، باب الربا، حديث:1584.»

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2177 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2177. حضرت ابو سعیدخدری ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سونے کو سونے کے عوض مت فروخت کرو مگر برابر برابر، یعنی ایک دوسرے سے کم، زیادہ کرکے فروخت نہ کرو۔ اور چاندی کے عوض چاندی کو فروخت نہ کرو مگر برابربرابر۔ یعنی ایک دوسرے میں کمی بیشی کرکے فروخت نہ کرو۔ اسی طرح غائب چیز کو حاضر کے عوض نہ فر وخت کرو۔ یعنی ایک طرف سے نقد اور دوسری طرف سے ادھار نہ ہو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2177]
حدیث حاشیہ: اس حدیث میں حضرت امام شافعی ؒ کی حجت ہے کہ اگرایک شخص کے دوسرے پر درہم قرض ہوں اور اس کے اس پر دینار قرض ہوں، تو ان کی بیع جائز نہیں کیوں کہ یہ بيعِ الكَالِي بالكالِي ہے۔
یعنی ادھار کو ادھار کے بدل بیچنا۔
اور ایک حدیث میں صراحتاً اس کی ممانعت وارد ہے اور اصحاب سننن نے ابن عمر ؓ سے نکالا کہ میں بقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا تو دیناروں کے بدل بیچتا اور درہم لیتا، اور درہم کے بدل بیچتا تو دینار لے لیتا۔
میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلہ کو پوچھا، آپ ﷺ نے فرمایا، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
بشرطیکہ اسی دن کے نرخ سے لے۔
اور ایک دوسرے سے بغیر لیے جدا نہ ہو۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2177 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2177 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2177. حضرت ابو سعیدخدری ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سونے کو سونے کے عوض مت فروخت کرو مگر برابر برابر، یعنی ایک دوسرے سے کم، زیادہ کرکے فروخت نہ کرو۔ اور چاندی کے عوض چاندی کو فروخت نہ کرو مگر برابربرابر۔ یعنی ایک دوسرے میں کمی بیشی کرکے فروخت نہ کرو۔ اسی طرح غائب چیز کو حاضر کے عوض نہ فر وخت کرو۔ یعنی ایک طرف سے نقد اور دوسری طرف سے ادھار نہ ہو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2177]
حدیث حاشیہ:
(1)
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں: مثل ذلك سے مراد یہ ہے کہ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے حضرت عمر ؓ سے مروی حدیث کی طرح حدیث بیان کی جیسا کہ اسماعیلی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔
اس میں صراحت ہے کہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی حدیث میں وہی مضمون تھا جو حضرت عمر ؓ سے مروی حدیث میں ہے، نیز یہ واقعہ حضرت ابن عمر ؓ کے ساتھ پیش آیا۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ کا ایک واقعہ حضرت ابن عباس ؓ کے ساتھ بھی ہے جو آئندہ (حدیث: 2178، 2179)
میں بیان ہوگا۔
(2)
واضح رہے کہ ایک شخص نے کسی سے درہم لینے ہیں اور کسی اور نے اس سے دینار لینے ہیں تو یہ دونوں آپس میں درہم ودینار کی خریدوفروخت نہیں کرسکتے کیونکہ جب ایک طرف سے ادھار اور دوسری طرف سے نقد کی خریدوفروخت جائز نہیں تو دونوں طرف سے ادھار کی بیع کیسے درست ہوسکتی ہے۔
(فتح الباري: 481/4)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2177 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1584 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سونا، سونے کے عوض فروخت نہ کرو، مگر برابر، برابر اور ایک دوسرے سے زائد نہ کرو، اور چاندی، چاندی کے عوض فروخت نہ کرو، مگر برابر برابر، اور اسے ایک دوسرے پر زائد نہ کرو، اور موجود کو غیر موجود کے عوض فروخت نہ کرو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4054]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
ربا: کا معنی اضافہ و زیادتی یا بڑھوتری ہے، اور علامہ ابوبکر جصاص نے اس کی تعریف یوں کی ہے، (القرض المشروط فيه الاجل و زيادة مال علي المستقرض)
یعنی ادھار کی میعاد پر مقروض سے اضافہ وصول کرنا، اور ایک مرفوع اور موقوف حدیث ہے، (كل قرض جر منفعة فهو ربا)
قرض پر نفع وصول کرنا سود ہے۔
لا تشفوا: یہ شف سے ماخوذ ہے، جس کا معنی، زیادتی اور کمی دونوں آتے ہیں، تو معنی ہوا، ایک دوسرے سے کم یا زیادہ نہ کرو برابر، برابر ہوں۔
فوائد ومسائل: ربا کی دو قسمیں ہیں (1)
ربا النسيئة: جس کی حرمت قرآن مجید میں بیان کی گئی ہے، اس لیے اس کو ربا القرآن بھی کہتے ہیں، جس میں ادھار، رقم دے کر، اس پر نفع یا اضافہ وصول کیا جاتا ہے۔
(2)
ربا الفضل: جس کی حرمت احادیث میں بیان کی گئی ہے، اس لیے اسے ربا الحديث بھی کہتے ہیں، جس میں ایک جنس کا باہمی تبادلہ کمی و بیشی کے ساتھ کیا جاتا ہے، مثلا ایک طرف چار کلو گندم ہے اور دوسری طرف 6 کلو گندم ہے، یا ایک طرف دو تولہ سونا ہے اور دوسری طرف تین تولہ یا ڈھائی تولہ سونا ہے تو یہ جائز نہیں ہے اور ایک ملک کی کرنسی کا حکم بھی سونے، چاندی والا ہے، تبادلہ میں کمی و بیشی جائز نہیں ہے، اس طرح تبادلہ کا دست بدست نقد بنقد ہونا ضروری ہے، موجود (ناجز)
کا غائب (غیر موجود)
سے تبادلہ جائز نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1584 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1584 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سونا، سونے کے عوض اور چاندی، چاندی کے عوض فروخت نہ کرو، مگر دونوں کا وزن اور ناپ برابر ہو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4057]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: سواء بسواء: مثلا بمثل یہ وزنا بوزن کی تاکید اور مبالغہ کے لیے ہیں، اور سونا اور چاندی میں تفاضل کمی و بیشی کی علت یا سبب ان کا موزوں اور ہم جنس ہوتا ہے، یہ امام ابو حنیفہ اور امام احمد، اسحاق بن راھویہ وغیرہم کا قول ہے، اور امام شافعی کے نزدیک، ان کا قیمت اور ہم جنس ہونا ہے، امام احمد کا ایک قول یہی ہے، اور امام مالک کا نظریہ بھی یہی ہے، اور صحیح نظریہ یہی ہے، اس لیے ایک ملک کی کرنسی کا تبادلہ، دست بدست اور برابر، برابر ہو گا، اور اگر دوسرے ملک کی کرنسی کا تبادلہ ہو، تو پھر جنس کے بدلنے کی بنا پر کمی و بیشی جائز ہو گی لیکن تبادلہ نقد بنقد ہو گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1584 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1241 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´صرف کا بیان۔`
نافع کہتے ہیں کہ میں اور ابن عمر دونوں ابو سعید خدری رضی الله عنہم کے پاس آئے تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اسے میرے دونوں کانوں نے آپ سے سنا): سونے کو سونے سے برابر برابر ہی بیچو اور چاندی کو چاندی سے برابر برابر ہی بیچو۔ ایک کو دوسرے سے کم و بیش نہ کیا جائے اور غیر موجود کو موجود سے نہ بیچو۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1241]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎: سونے چاندی کوبعوض سونے چاندی نقداً بیچنا بیع صرف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1241 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4574 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سونا کے بدلے سونا بیچنے کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر، اور ان میں سے ایک کا دوسرے پر اضافہ نہ کرو، اور چاندی کے بدلے چاندی مت بیچو مگر برابر برابر اور ان میں سے کسی کو نقد کے بدلے ادھار نہ بیچو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4574]
اردو حاشہ: سودا نہ کرو یعنی ادھار سودا جائز نہیں کیونکہ سونے چاندی کا بھاؤ اور باہمی تناسب بدلتا رہتا ہے۔ ایسی صورت میں جھگڑے کا امکان ہے۔ شریعت تنازع کو پسند نہیں کرتی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4574 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 510 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´کمی بیشی کے ساتھ ادھار کے بدلے نقد بیچنا جائز نہیں ہے`
«. . . 259- مالك عن نافع عن أبى سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا تبيعوا الذهب بالذهب إلا مثلا بمثل، ولا تشفوا بعضها على بعض، ولا تبيعوا الورق بالورق إلا مثلا بمثل ولا تشفوا بعضها على بعض، ولا تبيعوا منها شيئا غائبا بناجز. . . .»
. . . سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کو سونے کے بدلے میں نہ بیچو مگر برابر برابر، اس میں بعض کو بعض پر زیادتی و اضافہ نہ دو اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں نہ بیچو مگر برابر برابر، اس میں بعض پر زیادتی و اضافہ نہ دو اور ان میں سے کوئی چیز بھی ادھار کے بدلے نقد نہ بیچو . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 510]
تخریج الحدیث: [و اخرجه البخاري 2177، و مسلم 1584، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ سونے چاندی کے لین دین میں اضافہ حرام ہے، چاہے نقد ہو یا ادھار۔
➋ اگر جنس علیحدہ ہو تو کرنسی کا تبادلہ جائز ہے مثلاً ریال دے کر روپے لینا یا روپے دے کر ریال وغیرہ لینا۔
➌ محمد طاہر القادری (بریلوی) نے أحمد رضا خان بریلوی سے نقل کیا ہے کہ اگر کوئی شخص دس روپے کا نوٹ دوسرے شخص کو سال بھر کے وعدے پر بارہ (12) روپے میں بیچ دے تو یہ جائز ہے۔ [بلا سُود بنکاری/عبوری خاکہ طبع سوم جولائی 1987ء ص100]
بریلوی صاحب کا اس عمل کو جائز قرار دینا سراسر غلط ہے بلکہ حق یہ ہے کہ صریح سود ہے۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «كل قرض جر منفعته فهو وجه من وجوه الربا» ہر وہ قرض جو نفع کھینچے، سود کی قسموں میں سے ایک قسم ہے۔ [السنن الكبريٰ للبيهقي 5/350 وسنده صحيح وأخطأ من ضعفه]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 259 سے ماخوذ ہے۔