حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 696
وعن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « الربا ثلاثة وسبعون بابا أيسرها مثل أن ينكح الرجل أمه وإن أربى الربا عرض الرجل المسلم ». رواه ابن ماجه مختصرا والحاكم بتمامه وصححه.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” سود کے تہتر درجے ہیں ۔ سب سے کم تر درجہ اس گناہ کے مثل ہے کہ کوئی آدمی اپنی ماں کے ساتھ نکاح کرے اور سب سے بڑھ کر سود کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے ۔ “ اسے ابن ماجہ نے مختصراً اور حاکم نے مکمل بیان کیا ہے اور اسے صحیح بھی قرار دیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2275 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´حرمت سود میں وارد وعید کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سود کے تہتر دروازے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2275]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سود کے تہتر دروازے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2275]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سود کی بہت سی قسمیں ہیں لہٰذا لین دین میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے کہ سود کا لین دین نہ ہو جائے۔
(2)
علماء کرام کو چاہیے کہ کاروبار کی موجودہ صورتوں کا شرعی تعلیمات کی روشنی میں جائزہ لے کر مسلمان عوام کی رہنمائی کریں تاکہ وہ نادانستہ طور پر سود خوری کا ارتکاب نہ کر لیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
سود کی بہت سی قسمیں ہیں لہٰذا لین دین میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے کہ سود کا لین دین نہ ہو جائے۔
(2)
علماء کرام کو چاہیے کہ کاروبار کی موجودہ صورتوں کا شرعی تعلیمات کی روشنی میں جائزہ لے کر مسلمان عوام کی رہنمائی کریں تاکہ وہ نادانستہ طور پر سود خوری کا ارتکاب نہ کر لیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2275 سے ماخوذ ہے۔