حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 367
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « إذا صلى أحدكم الجمعة فليصل بعدها أربعا » . رواه مسلم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھے تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے ۔ “ ( مسلم )
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´نماز جمعہ کا بیان`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھے تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے۔ “ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 367»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھے تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے۔ “ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 367»
تخریج:
«أخرجه مسلم، الجمعة، باب الصلاة بعد الجمعة، حديث:881.»
تشریح: 1. اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھنی چاہییں۔
امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ بلکہ اکثر علماء کا یہی قول ہے۔
بہتر یہ ہے کہ دو دو کر کے چار رکعتیں پڑھی جائیں‘ تاہم اکٹھی بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔
2. ایک روایت میں ہے کہ جمعہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
(صحیح البخاري‘ الجمعۃ‘ باب الصلاۃ بعد الجمعۃ وقبلھا‘ حدیث:۷۳۷) اسی و جہ سے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اگر جمعہ کے بعد گھر میں پڑھے تو دو رکعتیں ادا کرے اور اگر مسجد میں ادا کرنا چاہے تو چار رکعتیں پڑھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی یوں ہی کرتے تھے۔
3.احناف جمعہ کے بعد چھ رکعتوں کے قائل ہیں مگر کسی بھی صحیح مرفوع روایت سے یہ ثابت نہیں۔
وَاللّٰہُ أَعْلَمُ۔
«أخرجه مسلم، الجمعة، باب الصلاة بعد الجمعة، حديث:881.»
تشریح: 1. اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھنی چاہییں۔
امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ بلکہ اکثر علماء کا یہی قول ہے۔
بہتر یہ ہے کہ دو دو کر کے چار رکعتیں پڑھی جائیں‘ تاہم اکٹھی بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔
2. ایک روایت میں ہے کہ جمعہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
(صحیح البخاري‘ الجمعۃ‘ باب الصلاۃ بعد الجمعۃ وقبلھا‘ حدیث:۷۳۷) اسی و جہ سے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اگر جمعہ کے بعد گھر میں پڑھے تو دو رکعتیں ادا کرے اور اگر مسجد میں ادا کرنا چاہے تو چار رکعتیں پڑھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی یوں ہی کرتے تھے۔
3.احناف جمعہ کے بعد چھ رکعتوں کے قائل ہیں مگر کسی بھی صحیح مرفوع روایت سے یہ ثابت نہیں۔
وَاللّٰہُ أَعْلَمُ۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 367 سے ماخوذ ہے۔