حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 361
وعن عمار بن ياسر رضي الله عنهما قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول : « إن طول صلاة الرجل وقصر خطبته مئنة من فقهه ». رواه مسلم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے ” آدمی کی لمبی نماز اور اس کا مختصر خطبہ اس کی فقاہت کی نشانی ہے ۔ “ ( مسلم )
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´نماز جمعہ کا بیان`
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے ” آدمی کی لمبی نماز اور اس کا مختصر خطبہ اس کی فقاہت کی نشانی ہے۔ “ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 361»
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے ” آدمی کی لمبی نماز اور اس کا مختصر خطبہ اس کی فقاہت کی نشانی ہے۔ “ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 361»
تخریج:
«أخرجه مسلم، الجمعة، باب تخفيف الصلاة، والخطبة، حديث:869.»
تشریح: اس حدیث میں خطیب کی عقلمندی کی علامت یہ بیان ہوئی ہے کہ اس کی نماز لمبی اور خطبہ چھوٹا ہوتا ہے۔
مختصر بات یاد رکھنی‘ ذہن نشین کرنی آسان ہوتی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبات جمعہ عام طور پر مختصر مگر جامع ہوتے تھے جنھیں یاد رکھنا یا حفظ کرنا زیادہ مشکل نہیں ہوتا تھا‘ بآسانی نوک زبان ہو جاتے تھے۔
مگر صد افسوس کہ اس دور میں ہمارے خطباء کی عموماً الٹی گنگا بہتی ہے‘ یعنی خطبہ لمبا اور نماز مختصر‘ اس خلاف سنت طریقے کی بہرنوع اصلاح ضروری ہے۔
«أخرجه مسلم، الجمعة، باب تخفيف الصلاة، والخطبة، حديث:869.»
تشریح: اس حدیث میں خطیب کی عقلمندی کی علامت یہ بیان ہوئی ہے کہ اس کی نماز لمبی اور خطبہ چھوٹا ہوتا ہے۔
مختصر بات یاد رکھنی‘ ذہن نشین کرنی آسان ہوتی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبات جمعہ عام طور پر مختصر مگر جامع ہوتے تھے جنھیں یاد رکھنا یا حفظ کرنا زیادہ مشکل نہیں ہوتا تھا‘ بآسانی نوک زبان ہو جاتے تھے۔
مگر صد افسوس کہ اس دور میں ہمارے خطباء کی عموماً الٹی گنگا بہتی ہے‘ یعنی خطبہ لمبا اور نماز مختصر‘ اس خلاف سنت طریقے کی بہرنوع اصلاح ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 361 سے ماخوذ ہے۔