حدیث نمبر: 354
عن عبد الله بن عمرو ،‏‏‏‏ و أبي هريرة رضي الله عنهم أنهما سمعا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول على أعواد منبره : « لينتهين أقوام عن ودعهم الجمعات أو ليختمن الله على قلوبهم ثم ليكونن من الغافلين ». رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ( دونوں ) سے مروی ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر کی سیڑھیوں پر یہ فرماتے سنا ہے کہ ” لوگ نماز جمعہ چھوڑنے سے باز آ جائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا پھر وہ لازماً غافل لوگوں میں شمار ہوں گے ۔ “ ( مسلم )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 354
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم، الجمعة، باب التغليظ في ترك الجمعة، حديث:865.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´نماز جمعہ کا بیان`
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (دونوں) سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر کی سیڑھیوں پر یہ فرماتے سنا ہے کہ لوگ نماز جمعہ چھوڑنے سے باز آ جائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا پھر وہ لازماً غافل لوگوں میں شمار ہوں گے۔ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 354»
تخریج:
«أخرجه مسلم، الجمعة، باب التغليظ في ترك الجمعة، حديث:865.»
تشریح: 1. جمعہ کے لغوی معنی ایک جگہ جمع ہونے کے ہیں‘ اس دن کو دور جاہلیت میں ’’عروبہ‘‘ کہتے تھے۔
اسلام نے اس کا نام جمعہ رکھا کہ مسلمان ایک مخصوص دن میں مخصوص اوقات میں عبادت الٰہی کے لیے مجتمع ہوں اور مل کر سب اکٹھے عبادت کریں اور ایک دوسرے کے حالات سے باخبر بھی ہوں اور اجتماعی فیصلے بھی کیے جا سکیں۔
2. اس حدیث سے جمعہ کی فرضیت ثابت ہوتی ہے‘ اسے کسی عذر شرعی کے بغیر ترک کرنے کی وجہ سے دلوں پر مہریں لگ جاتی ہیں اور آدمی دین سے بے بہرہ ہو جاتا ہے‘ اور پھر آخر کار منافقین و غافلین کے زمرے میں شامل ہو کر رہ جاتا ہے۔
گویا نماز جمعہ کو معمولی سمجھ کر اس بارے میں تساہل اور سستی کا مظاہرہ کرنا رسوائی اور خذلان کا موجب ہے اور توفیق الٰہی سے محروم رہنے کا باعث بھی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 354 سے ماخوذ ہے۔