باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ نساء میں) فرمایا ”اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے اس کی سزا جہنم ہے“۔
حدیث 6861–6866
باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ المائدہ میں) فرمایا ”جس نے مرتے کو بچا لیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچا لی“۔
حدیث 6867–6875
باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ البقرہ میں) فرمایا ”اے ایمان والو! تم میں جو لوگ قتل کئے جائیں ان کا قصاص فرض کیا گیا ہے، آزاد کے بدلہ میں آزاد اور غلام کے بدلہ میں غلام اور عورت کے بدلہ میں عورت، ہاں جس کسی کو اس کے فریق کے مقابل کی طرف سے قصاص کا کوئی حصہ معاف کر دیا جائے سو مطالبہ معقول اور نرم طریق پر کرنا چاہئے اور دیت کو اس فریق کے پاس خوبی سے پہنچا دینا چاہئے، یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے رعایت اور مہربانی ہے سو جو کوئی اس کے بعد بھی زیادتی کرے اس کے لیے آخرت میں درد ناک عذاب ہے“۔
حدیث 6876–6876
باب: حاکم کا قاتل سے پوچھ گچھ کرنا یہاں تک کہ وہ اقرار کر لے اور حدود میں اقرار (اثباب جرم کیلئے) کافی ہے۔
باب: جب کسی نے پتھر یا ڈنڈے سے کسی کو قتل کیا۔
حدیث 6877–6877
باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ المائدہ میں) فرمایا کہ ”جان کا بدلہ جان ہے اور آنکھ کا بدلہ آنکھ اور ناک کا بدلہ ناک اور کان کا بدلہ کان اور دانت کا بدلہ دانت اور زخموں میں قصاص ہے، سو کوئی اسے معاف کر دے تو وہ اس کی طرف سے کفارہ ہو جائے گا اور جو کوئی اللہ کے نازل کئے ہوئے احکام کے موافق فیصلہ نہ کرے تو وہ ظالم ہیں“۔
حدیث 6878–6878
باب: پتھروں سے قصاص لینے کا بیان۔
حدیث 6879–6879
باب: جس کا کوئی قتل کر دیا گیا ہو اسے دو چیزوں میں ایک کا اختیار ہے۔
حدیث 6880–6881
باب: جو کوئی ناحق کسی کا خون کرنے کی فکر میں ہو اس کا گناہ۔
حدیث 6882–6882
باب: قتل خطا میں مقتول کی موت کے بعد اس کے وارث کا معاف کرنا۔
حدیث 6883–6883
باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ نساء میں) فرمایا ”اور یہ کسی مومن کیلئے مناسب نہیں کہ وہ کسی مومن کو ناحق قتل کر دے، بجز اس کے کہ غلطی سے ایسا ہو جائے اور جو کوئی کسی مومن کو غلطی سے قتل کر ڈالے تو ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا اس پر واجب ہے اور دیت بھی جو اس کے عزیزوں کے حوالہ کی جائے سوا اس کے کہ وہ لوگ خود ہی اسے معاف کر دیں تو اگر وہ ایسی قوم میں ہو جو تمہاری دشمن ہے درآں حالیکہ وہ بذات خود مومن ہے تو ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا واجب ہے اور اگر ایسی قوم میں سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہے تو دیت واجب ہے جو اس کے عزیزوں کے حوالہ کی جائے اور ایک مسلم غلام کا آزاد کرنا بھی، پھر جس کو یہ نہ میسر ہو اس پر دو مہینے کے لگاتار روزے رکھنا واجب ہے، یہ توبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ بڑا علم والا ہے، بڑا ہی حکمت والا ہے“۔
حدیث 6884–6884
باب: جب قاتل ایک مرتبہ قتل کا اقرار کر لے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔
باب: عورت کے بدلہ میں مرد کا قتل کرنا جو عورت کا قاتل ہو۔
حدیث 6885–6885
باب: مردوں اور عورتوں کے درمیان زخموں میں بھی قصاص لیا جائے گا۔
حدیث 6886–6886
باب: جس نے اپنا حق یا قصاص سلطان کی اجازت کے بغیر لے لیا۔
حدیث 6887–6889
باب: جب کوئی ہجوم میں مر جائے یا مارا جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث 6890–6890
باب: اگر کسی نے غلطی سے اپنے آپ ہی کو مار ڈالا تو اس کی کوئی دیت نہیں ہے۔
حدیث 6891–6891
باب: جب کسی نے کسی کو دانت سے کاٹا اور کاٹنے والے کا دانت ٹوٹ گیا تو اس کی کوئی دیت نہیں ہے۔
حدیث 6892–6893
باب: دانت کے بدلے دانت۔
حدیث 6894–6894
باب: انگلیوں کی دیت کا بیان۔
حدیث 6895–6895
باب: اگر کئی آدمی ایک شخص کو قتل کر دیں تو کیا قصاص میں سب کو قتل کیا جائے گا یا قصاص لیا جائے گا؟
حدیث 6896–6897
باب: قسامت کا بیان۔
حدیث 6898–6899
باب: جس نے کسی کے گھر میں جھانکا اور انہوں نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دی تو اس پر دیت واجب نہیں ہو گی۔
حدیث 6900–6902
باب: عاقلہ کا بیان۔
حدیث 6903–6903
باب: عورت کے پیٹ کا بچہ جو ابھی پیدا نہ ہوا ہو۔
حدیث 6904–6908
باب: پیٹ کے بچے کا بیان اور اگر کوئی عورت خون کرے تو اس کی دیت ددھیال والوں پر ہو گی نہ کہ اس کی اولاد پر۔
حدیث 6909–6910
باب: جس نے کسی غلام یا بچہ کو کام کیلئے عاریتاً مانگ لیا۔
حدیث 6911–6911
باب: کان میں دب کر اور کنویں میں گر کر مرنے والے کی دیت نہیں ہے۔
حدیث 6912–6912
باب: چوپایوں کے نقصان کرنے کا کچھ تاوان نہیں۔
حدیث 6913–6913
باب: جو بےگناہ ذمی کافر کو مار ڈالے اس کے گناہ کا بیان۔
حدیث 6914–6914
باب: مسلمان کو (ذمی) کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔
حدیث 6915–6915
باب: جب مسلمان غصہ میں یہودی کو تھپڑ مار ڈالے۔
حدیث 6916–6917
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔