کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اشارے کنائے کے طور پر کوئی بات کہنا اس کو تعریض کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 6847
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ ، فَقَالَ : هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : مَا أَلْوَانُهَا ؟ قَالَ : حُمْرٌ ، قَالَ : هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ ، قَالَ : أُرَاهُ عِرْقٌ نَزَعَهُ ، قَالَ : فَلَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزَعَهُ عِرْقٌ " .
مولانا داود راز
´ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے شہاب نے ، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ ! میری بیوی نے کالا لڑکا جنا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ، تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ان کے رنگ کیسے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ سرخ ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا پھر یہ کہاں سے آ گیا ؟ انہوں نے کہا میرا خیال ہے کہ کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا جس کی وجہ سے ایسا اونٹ پیدا ہوا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایسا بھی ممکن ہے کہ تیرے بیٹے کا رنگ بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المحاربين / حدیث: 6847
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة