باب: اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ المائدہ) میں فرمایا کہ ”جو لوگ اللہ اور رسول سے جنگ لڑتے اور ملک میں فساد پھیلاتے رہتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا سولی دئیے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پیر الٹے سیدھے یعنی دائیں بائیں سے کاٹے جائیں یا جلا وطن یا قید کئے جائیں“۔
حدیث 6802–6802
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مرتد ڈاکوؤں کے (زخموں پر) داغ نہیں لگوایا، یہاں تک کہ وہ مر گئے۔
حدیث 6803–6803
باب: مرتد لڑنے والوں کو پانی بھی نہ دینا یہاں تک کہ پیاس سے وہ مر جائیں۔
حدیث 6804–6804
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتدین لڑنے والوں کی آنکھوں میں سلائی پھروانا۔
حدیث 6805–6805
باب: جس نے فواحش (زناکاری، اغلام بازی وغیرہ) کو چھوڑ دیا اس کی فضیلت۔
حدیث 6806–6807
باب: زنا کے گناہ کا بیان۔
حدیث 6808–6811
باب: محصن (شادی شدہ کو زنا کی علت میں) سنگسار کرنا۔
حدیث 6812–6814
باب: پاگل مرد یا عورت کو رجم نہیں کیا جائے گا۔
حدیث 6815–6816
باب: زنا کرنے والے کے لیے پتھروں کی سزا۔
حدیث 6817–6818
باب: بلاط میں رجم کرنا۔
حدیث 6819–6819
باب: عیدگاہ میں رجم کرنا (عیدگاہ کے پاس یا خود عیدگاہ میں)۔
حدیث 6820–6820
باب: جس نے کوئی ایسا گناہ کیا جس پر حد نہیں (مثلاً اجنبی عورت کو بوسہ دیا یا اس سے مساس کیا)۔
حدیث 6821–6822
باب: جب کوئی شخص حد (والے گناہ) کا اقرار غیر واضح طور پر کرے تو کیا امام کو اس کی پردہ پوشی کرنی چاہئے۔
حدیث 6823–6823
باب: کیا امام (زنا کا) اقرار کرنے والے سے یہ کہے کہ شاید تو نے چھوا ہو یا آنکھ سے اشارہ کیا ہو۔
حدیث 6824–6824
باب: زنا کا اقرار کرنے والے سے امام کا پوچھنا کہ کیا تم شادی شدہ ہو؟
حدیث 6825–6826
باب: زنا کا اقرار کرنا۔
حدیث 6827–6829
باب: زنا سے حاملہ ہونے والی عورت کو رجم کرنے کا بیان جب کہ وہ شادی شدہ ہو۔
حدیث 6830–6830
باب: غیرشادی شدہ مرد و عورت کو کوڑے مارے جائیں اور ملک بدر کیا جائے۔
حدیث 6831–6833
باب: بدکاروں اور مخنثوں کا شہر بدر کرنا۔
حدیث 6834–6834
باب: جو شخص حاکم اسلام کے پاس نہ ہو (کہیں اور ہو) لیکن اس کو حد لگانے کے لیے حکم دیا جائے۔
حدیث 6835–6836
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ”اور تم میں سے جو کوئی طاقت نہ رکھتا ہو کہ آزاد مسلمان عورتوں میں سے نکاح کر سکے تو وہ تمہاری آپس کی مسلمان لونڈیوں میں سے جو تمہاری شرعی ملکیت میں ہوں نکاح کرے اور اللہ تمہارے ایمان سے خوب واقف ہے۔ تم سب آپس میں ایک ہو۔ سو ان لونڈیوں کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کر لیا کرو اور ان کے مہر انہیں دے دیا کرو دستور کے موافق اس طرح کہ وہ قید نکاح میں لائی جائیں نہ کہ مستی نکالنے والیاں ہوں اور نہ چوری چھپے آشنائی کرنے والیاں ہوں۔ پھر جب وہ لونڈی قید میں آ جائیں اور پھر اگر وہ بےحیائی کا کام کریں تو ان کے لیے اس سزا کا نصف ہے جو آزاد عورتوں کے لیے ہے۔ یہ اجازت اس لیے ہے جو تم میں سے بدکاری کا ڈر رکھتا ہو اور اگر تم صبر سے کام لو تو تمہارے حق میں کہیں بہتر ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے“۔
حدیث 6837–6837
باب: جب کوئی کنیز زنا کرائے۔
حدیث 6837–6838
باب: لونڈی کو شرعی سزا دینے کے بعد پھر ملامت نہ کرے، نہ لونڈی جلا وطن کی جائے۔
حدیث 6839–6839
باب: ذمیوں کے احکام اور اگر شادی کے بعد انہوں نے زنا کیا اور امام کے سامنے پیش ہوئے تو اس کے احکام کا بیان۔
حدیث 6840–6841
باب: اگر حاکم کے سامنے کوئی شخص اپنی عورت کو یا کسی دوسرے کی عورت کو زنا کی تہمت لگائے تو کیا حاکم کو یہ لازم ہے کہ کسی شخص کو عورت کے پاس بھیج کر اس تہمت کا حال دریافت کرائے۔
حدیث 6842–6843
باب: حاکم کی اجازت کے بغیر اگر کوئی شخص اپنے گھر والوں یا کسی اور کو تنبیہ کرے۔
حدیث 6844–6845
باب: اس مرد کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھا اور اسے قتل کر دیا، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
حدیث 6846–6846
باب: اشارے کنائے کے طور پر کوئی بات کہنا اس کو تعریض کہتے ہیں۔
حدیث 6847–6847
باب: تنبیہ اور تعزیر یعنی حد سے کم سزا کتنی ہونی چاہئے۔
حدیث 6848–6853
باب: اگر کسی شخص کی بےحیائی اور بےشرمی اور آلودگی پر گواہ نہ ہوں پھر قرائن سے یہ امر کھل جائے۔
حدیث 6854–6856
باب: پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا گناہ ہے۔
حدیث 6857–6857
باب: غلاموں پر ناحق تہمت لگانا بڑا گناہ ہے۔
حدیث 6858–6858
باب: اگر امام کسی شخص کو حکم کرے کہ جا فلاں شخص کو حد لگا جو غائب ہو (یعنی امام کے پاس موجود نہ ہو)، عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا ہے۔
حدیث 6859–6860
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔