حدیث نمبر: Q5975
قَالَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مولانا داود راز
اس کو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5975
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ وَرَّادٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ ، وَمَنْعًا وَهَاتِ ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ ، وَكَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا ، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے مسیب نے ان سے وراد نے اور ان سے مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے تم پر ماں کی نافرمانی حرام قرار دی ہے اور ( والدین کے حقوق ) نہ دینا اور ناحق ان سے مطالبات کرنا بھی حرام قرار دیا ہے ، لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا ( بھی حرام قرار دیا ہے ) اور «قيل وقال» ( فضول باتیں ) کثرت سوال اور مال کی بربادی کو بھی ناپسند کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5976
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ " وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ ، فَقَالَ : " أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ ، أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ " فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى قُلْتُ : لَا يَسْكُتُ .
مولانا داود راز
´مجھ سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد واسطی نے بیان کیا ، ان سے جریری نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کیا ضرور بتائیے یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے اب آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا آگاہ ہو جاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی ( سب سے بڑے گناہ ہیں ) آگاہ ہو جاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے مسلسل دہراتے رہے اور میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش نہیں ہوں گے ۔
حدیث نمبر: 5977
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَبَائِرَ أَوْ سُئِلَ عَنِ الْكَبَائِرِ فَقَالَ : " الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، فَقَالَ : أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟ قَالَ : قَوْلُ الزُّورِ أَوْ قَالَ شَهَادَةُ الزُّورِ " قَالَ شُعْبَةُ : وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ : شَهَادَةُ الزُّورِ .
مولانا داود راز
´مجھ سے محمد بن ولید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ` مجھ سے عبیداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبائر کا ذکر کیا یا ( انہوں نے کہا کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کبائر کے متعلق پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، کسی کی ( ناحق ) جان لینا ، والدین کی نافرمانی کرنا پھر فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتا دوں ؟ فرمایا کہ جھوٹی بات یا فرمایا کہ جھوٹی شہادت ( سب سے بڑا گناہ ہے ) شعبہ نے بیان کیا کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹی گواہی فرمایا تھا ۔