باب: اور اللہ پاک نے (سورۃ لقمان اور سورۃ احقاف میں) فرمایا ”ہم سے انسانوں کو اس کے والدین کے ساتھ نیک سلوک کا حکم دیا ہے“۔
حدیث 5970–5970
باب: رشتہ والوں میں اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟
حدیث 5971–5971
باب: والدین کی اجازت کے بغیر کسی کو جہاد کے لیے نہ جانا چاہیئے۔
حدیث 5972–5972
باب: کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی گلوچ نہ دے۔
حدیث 5973–5973
باب: جس شخص نے اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کیا اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔
حدیث 5974–5974
باب: والدین کی نافرمانی بہت ہی بڑے گناہ میں سے ہے۔
حدیث 5975–5977
باب: والد کافر یا مشرک ہو تب بھی اس کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔
حدیث 5978–5978
باب: اگر خاوند والی مسلمان عورت اپنے کافر ماں کے ساتھ نیک سلوک کرے۔
حدیث 5979–5980
باب: کافر و مشرک بھائی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔
حدیث 5981–5981
باب: ناطہٰ والوں سے صلہ رحمی کی فضیلت۔
حدیث 5982–5983
باب: قطع رحمی کرنے والے کا گناہ۔
حدیث 5984–5984
باب: ناطہٰ والوں سے نیک سلوک کرنا رزق میں فراخی کا ذریعہ بنتا ہے۔
حدیث 5985–5986
باب: جو شخص ناطہٰ جوڑے گا اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاپ رکھے گا۔
حدیث 5987–5989
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا ناطہٰ اگر قائم رکھ کر تروتازہ رکھا جائے (یعنی ناطہٰ کی رعایت کی جائے) تو دوسرا بھی ناطہٰ کو تروتازہ رکھے گا۔
حدیث 5990–5990
باب: ناطہٰ جوڑنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ صرف بدلہ ادا کر دے۔
حدیث 5991–5991
باب: جس نے کفر کی حالت میں صلہ رحمی کی اور پھر اسلام لایا تو اس کا ثواب قائم رہے گا۔
حدیث 5992–5992
باب: دوسرے کے بچے کو چھوڑ دینا کہ وہ کھیلے اور اس کو بوسہ دینا یا اس سے ہنسنا۔
حدیث 5993–5993
باب: بچے کے ساتھ رحم و شفقت کرنا، اسے بوسہ دینا اور گلے سے لگانا۔
حدیث 5994–5999
باب: اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے سو حصے بنائے ہیں۔
حدیث 6000–6000
باب: اولاد کو اس ڈر سے مار ڈالنا کہ ان کو اپنے ساتھ کھلانا پڑے گا۔
حدیث 6001–6001
باب: بچے کو گود میں بٹھلانا۔
حدیث 6002–6002
باب: بچے کو ران پر بٹھانا۔
حدیث 6003–6003
باب: صحبت کا حق یاد رکھنا ایمان کی نشانی ہے۔
حدیث 6004–6004
باب: یتیم کی پرورش کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث 6005–6005
باب: بیوہ عورتوں کی پرورش کرنے والے کا ثواب۔
حدیث 6006–6007
باب: مسکین اور محتاجوں کی پرورش کرنے والا۔
حدیث 6007–6007
باب: انسانوں اور جانوروں سب پر رحم کرنا۔
حدیث 6008–6013
باب: پڑوسی کے حقوق کا بیان۔
حدیث 6014–6015
باب: اس شخص کا گناہ جس کا پڑوسی اس کے شر سے امن میں نہ رہتا ہو۔
حدیث 6016–6016
باب: کوئی عورت اپنی پڑوسن کے لیے کسی چیز کے دینے کو حقیر نہ سمجھے۔
حدیث 6017–6017
باب: جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے۔
حدیث 6018–6019
باب: پڑوسیوں میں کون سا پڑوسی مقدم ہے؟
حدیث 6020–6020
باب: ہر نیک کام صدقہ ہے۔
حدیث 6021–6022
باب: خوش کلامی کا ثواب۔
حدیث 6023–6023
باب: ہر کام میں نرمی اور عمدہ اخلاق اچھی چیز ہے۔
حدیث 6024–6025
باب: ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی مدد کرنا۔
حدیث 6026–6027
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ نساء میں) فرمان کہ ”جو کوئی سفارش کرے نیک کام کے لیے اس کو بھی اس میں ثواب کا ایک حصہ ملے گا اور جو کوئی سفارش کرے برے کام میں اس کو بھی حصہ اس کے عذاب سے ملے گا اور ہر چیز پر اللہ نگہبان ہے“۔
حدیث 6028–6028
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت گو اور بدزبان نہ تھے، «فاحش» بکنے والا اور «متفحش» لوگوں کو ہنسانے کے لیے بد زبانی کرنے والا بےحیائی کی باتیں کرنے والا۔
حدیث 6029–6032
باب: خوش خلقی اور سخاوت کا بیان اور بخل کا ناپسندیدہ ہونا۔
حدیث 6033–6038
باب: آدمی اپنے گھر میں کیا کرتا رہے۔
حدیث 6039–6039
باب: نیک آدمی کی محبت اللہ پاک لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔
حدیث 6040–6040
باب: اللہ کے لیے محبت رکھنے کی فضیلت۔
حدیث 6041–6041
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ”اے ایمان والو! کوئی قوم کسی دوسری قوم کا مذاق نہ بنائے اسے حقیر نہ جانا جائے کیا معلوم شاید وہ ان سے اللہ کے نزدیک بہتر ہو۔“ «فأولئك هم الظالمون» تک۔
حدیث 6042–6043
باب: گالی دینے اور لعنت کرنے کی ممانعت۔
حدیث 6044–6050
باب: کسی آدمی کی نسبت یہ کہنا کہ لمبا یا چھوٹا ہے، جائز ہے (بشرطیکہ اس کی تحقیر کی نیت نہ ہو غیبت نہیں ہے)۔
حدیث 6051–6051
باب: غیبت کا بیان۔
حدیث 6052–6052
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا انصار کے سب گھروں میں فلانا گھرانہ بہتر ہے۔
حدیث 6053–6053
باب: مفسد اور شریر لوگوں کی یا جن پر گمان غالب برائی کا ہو، ان کی غیبت درست ہونا۔
حدیث 6054–6054
باب: چغل خوری کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
حدیث 6055–6055
باب: چغل خوری کی ناپسندیدگی کا بیان۔
حدیث 6056–6056
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ”اے ایمان والو! جھوٹی بات سے بچو“۔
حدیث 6057–6057
باب: دوغلی بات کرنے والے کے بارے میں جو کہا گیا ہے۔
حدیث 6058–6058
باب: جو اپنے ساتھی کو وہ بات بتائے جو اس کے بارے میں کی جاتی ہو۔
حدیث 6059–6059
باب: تعریف میں مبالغہ کرنا منع، مکروہ ہے۔
حدیث 6060–6061
باب: جو اپنے بھائی کی (اتنی) تعریف کرے جتنا وہ جانتا ہے۔
حدیث 6062–6062
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ”اللہ تعالیٰ تمہیں انصاف اور احسان اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور تمہیں فحش، منکر اور بغاوت سے روکتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے، شاید کہ تم نصیحت حاصل کرو۔“
حدیث 6063–6063
باب: حسد اور پیٹھ پیچھے برائی کی ممانعت۔
حدیث 6064–6065
باب: سورۃ الحجرات میں اللہ کا فرمان اے ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے بچو، بیشک بعض بدگمانیاں گناہ ہوتی ہیں اور کسی کے عیوب کی ڈھونڈ ٹٹول نہ کرو , آخر آیت تک۔
حدیث 6066–6066
باب: گمان سے کوئی بات کہنا۔
حدیث 6067–6068
باب: مومن کا اپنے (عیب) پر پردہ ڈالنا۔
حدیث 6069–6070
باب: تکبر کے بارے میں۔
حدیث 6071–6072
باب: ترک ملاقات کا بیان۔
حدیث 6073–6077
باب: نافرمانی کرنے والے سے تعلق توڑنے کا جواز۔
حدیث 6078–6078
باب: کیا اپنے ساتھی کی ملاقات کے لیے ہر دن جا سکتا ہے یا صبح اور شام ہی کے اوقات میں جائے۔
حدیث 6079–6079
باب: ملاقات کے لیے جانا اور جو لوگوں سے ملنے گیا اور انہیں کے یہاں کھانا کھایا تو یہ جائز ہے۔
حدیث 6080–6080
باب: جس نے لوگوں سے ملاقات کے لیے خوبصورتی اپنائی۔
حدیث 6081–6081
باب: کسی سے بھائی چارہ اور دوستی کا اقرار کرنا۔
حدیث 6082–6083
باب: مسکرانا اور ہنسنا۔
حدیث 6084–6093
باب: اللہ تعالیٰ کا سورۃ الحجرات میں ارشاد فرمانا ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سچ بولنے والوں کے ساتھ رہو۔“ اور جھوٹ بولنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث 6094–6096
باب: اچھے چال چلن کے بارے میں۔
حدیث 6097–6098
باب: تکلیف پر صبر کرنے کا بیان۔
حدیث 6099–6100
باب: غصہ میں جن پر عتاب ہے ان کو مخاطب نہ کرنا۔
حدیث 6101–6102
باب: جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کو جس میں کفر کی وجہ نہ ہو کافر کہے وہ خود کافر ہو جاتا ہے۔
حدیث 6103–6105
باب: اگر کسی نے کوئی وجہ معقول رکھ کر کسی کو کافر کہا یا نادانستہ تو وہ کافر (نہ) ہوگا۔
حدیث 6106–6108
باب: خلاف شرع کام پر غصہ اور سختی کرنا۔
حدیث 6109–6113
باب: غصہ سے پرہیز کرنا اللہ تعالیٰ کے فرمان (سورۃ شوریٰ) کی وجہ سے۔
حدیث 6114–6116
باب: حیاء اور شرم کا بیان۔
حدیث 6117–6119
باب: جب حیاء نہ ہو تو جو چاہو کرو۔
حدیث 6120–6120
باب: شریعت کی باتیں پوچھنے میں شرم نہیں کرنی چاہئیے۔
حدیث 6121–6123
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ آسانی کرو، سختی نہ کرو۔
حدیث 6124–6128
باب: لوگوں کے ساتھ فراخی سے پیش آنا۔
حدیث 6129–6130
باب: لوگوں کے ساتھ خاطر تواضع سے پیش آنا۔
حدیث 6131–6132
باب: مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جا سکتا۔
حدیث 6133–6133
باب: مہمان کے حق کے بیان میں۔
حدیث 6134–6134
باب: مہمان کی عزت اور خود اس کی خدمت کرنا۔
حدیث 6135–6138
باب: مہمان کے لیے پرتکلف کھانا تیار کرنا۔
حدیث 6139–6139
باب: مہمان کے سامنے غصہ اور رنج کا ظاہر کرنا مکروہ ہے۔
حدیث 6140–6140
باب: مہمان کو اپنے میزبان سے کہنا کہ جب تک تم ساتھ نہ کھاؤ گے میں بھی نہیں کھاؤں گا۔
حدیث 6141–6141
باب: جو عمر میں بڑا ہو اس کی تعظیم کرنا اور پہلے اسی کو بات کرنے اور پوچھنے دینا۔
حدیث 6142–6144
باب: شعر، رجز اور حدی خوانی کا جائز ہونا۔
حدیث 6145–6149
باب: مشرکوں کی ہجو کرنا درست ہے۔
حدیث 6150–6153
باب: شعر و شاعری میں اس طرح اوقات صرف کرنا منع ہے کہ آدمی اللہ کی یاد اور علم حاصل کرنے اور قرآن شریف کی تلاوت کرنے سے باز رہ جائے۔
حدیث 6154–6155
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تیرے ہاتھ کو مٹی لگے یا تجھ کو زخم پہنچے، تیرے حلق میں بیماری ہو۔
حدیث 6156–6157
باب: «زعموا» کہنے کا بیان۔
حدیث 6158–6158
باب: لفظ «ويلك» یعنی تجھ پر افسوس ہے کہنا درست ہے۔
حدیث 6159–6167
باب: اللہ عزوجل کی محبت کس کو کہتے ہیں۔
حدیث 6168–6171
باب: کسی کا کسی کو یوں کہنا چل دور ہو۔
حدیث 6172–6175
باب: کسی شخص کا مرحبا کہنا۔
حدیث 6176–6176
باب: لوگوں کو ان کے باپ کا نام لے کر قیامت کے دن بلایا جانا۔
حدیث 6177–6178
باب: آدمی کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میرا نفس پلید ہو گیا۔
حدیث 6179–6180
باب: زمانہ کو برا کہنا منع ہے۔
حدیث 6181–6182
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں فرمانا کہ «كرم» تو مومن کا دل ہے۔
حدیث 6183–6183
باب: کسی شخص کا کہنا کہ ”میرے باپ اور ماں تم پر قربان ہوں“۔
حدیث 6184–6184
باب: کسی کا یہ کہنا اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔
حدیث 6185–6185
باب: اللہ پاک کو کون سے نام زیادہ پسند ہیں اور کسی شخص کا کسی کو یوں کہنا بیٹا۔
حدیث 6186–6186
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت نہ رکھو۔
حدیث 6187–6189
باب: ”حزن“ نام رکھنا۔
حدیث 6190–6190
باب: کسی برے نام کو بدل کر اچھا نام رکھنا۔
حدیث 6191–6193
باب: جس نے انبیاء کے نام پر نام رکھے۔
حدیث 6194–6199
باب: بچے کا نام ولید رکھنا۔
حدیث 6200–6200
باب: جس نے اپنے کسی ساتھی کو اس کے نام میں سے کوئی حرف کم کر کے پکارا۔
حدیث 6201–6202
باب: بچہ کی کنیت رکھنا اس سے پہلے کہ وہ صاحب اولاد ہو۔
حدیث 6203–6203
باب: ایک کنیت ہوتے ہوئے دوسری ابوتراب کنیت رکھنا جائز ہے۔
حدیث 6204–6204
باب: اللہ کو جو نام بہت ہی زیادہ ناپسند ہیں ان کا بیان۔
حدیث 6205–6206
باب: مشرک کی کنیت کا بیان۔
حدیث 6207–6208
باب: تعریض کے طور پر بات کہنے میں جھوٹ سے بچاؤ ہے۔
حدیث 6209–6212
باب: کسی شخص کا کسی چیز کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ کچھ نہیں اور مقصد یہ ہو کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
حدیث 6213–6213
باب: آسمان کی طرف نظر اٹھانا۔
حدیث 6214–6215
باب: کیچڑ، پانی میں لکڑی مارنا۔
حدیث 6216–6216
باب: کسی شخص کا زمین پر کسی چیز کو مارنا۔
حدیث 6217–6217
باب: تعجب کے وقت اللہ اکبر اور سبحان اللہ کہنا۔
حدیث 6218–6219
باب: انگلیوں سے پتھر یا کنکری پھینکنے کی ممانعت۔
حدیث 6220–6220
باب: چھینکنے والے کا الحمدللہ کہنا۔
حدیث 6221–6221
باب: چھینکنے والا الحمدللہ کہے تو اس کا جواب یرحمک اللہ سے دینا چاہئے یعنی اللہ تجھ پر رحم کرے۔
حدیث 6222–6222
باب: چھینک اچھی ہے اور جمائی میں برائی ہے۔
حدیث 6223–6223
باب: چھینکنے والے کا کس طرح جواب دیا جائے؟
حدیث 6224–6224
باب: جب چھنیکنے والا الحمدللہ نہ کہے تو اس کے لیے یرحمک اللہ بھی نہ کہا جائے۔
حدیث 6225–6225
باب: جب جمائی آئے تو چاہیے کہ منہ پر ہاتھ رکھ لے۔
حدیث 6226–6226
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔