کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: کباث کا بیان اور وہ پیلو کے درخت کا پھل ہے۔
حدیث نمبر: 5453
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ نَجْنِي الْكَبَاثَ ، فَقَالَ : عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ فَإِنَّهُ أَيْطَبُ ، فَقَالَ : أَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا رَعَاهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا ، ان سے یونس نے ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا انہیں ابوسلمہ نے خبر دی ، کہا کہ مجھے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی ، انہوں نے بیان کیا کہ` ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام مرالظہران پر تھے ، ہم پیلو توڑ رہے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو خوب کالا ہو وہ توڑو کیونکہ وہ زیادہ لذیذ ہوتا ہے ۔ جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آپ نے بکریاں چرائی ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأطعمة / حدیث: 5453
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة