حدیث نمبر: 5406
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ مَكَّةَ " .
مولانا داود راز
´مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عثمان ابن عمر نے بیان کیا ، ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار مدنی نے ، کہا ہم سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) دوسری سند ( حدیث دیکھیں 5407 )
حدیث نمبر: 5407
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ السَّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " كُنْتُ يَوْمًا جَالِسًا مَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلٍ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازِلٌ أَمَامَنَا وَالْقَوْمُ مُحْرِمُونَ وَأَنَا غَيْرُ مُحْرِمٍ ، فَأَبْصَرُوا حِمَارًا وَحْشِيًّا وَأَنَا مَشْغُولٌ أَخْصِفُ نَعْلِي فَلَمْ يُؤْذِنُونِي لَهُ وَأَحَبُّوا لَوْ أَنِّي أَبْصَرْتُهُ ، فَالْتَفَتُّ ، فَأَبْصَرْتُهُ ، فَقُمْتُ إِلَى الْفَرَسِ ، فَأَسْرَجْتُهُ ، ثُمَّ رَكِبْتُ وَنَسِيتُ السَّوْطَ وَالرُّمْحَ ، فَقُلْتُ لَهُمْ : نَاوِلُونِي السَّوْطَ وَالرُّمْحَ ، فَقَالُوا : لَا وَاللَّهِ لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ ، فَغَضِبْتُ ، فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُهُمَا ، ثُمَّ رَكِبْتُ فَشَدَدْتُ عَلَى الْحِمَارِ فَعَقَرْتُهُ ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ وَقَدْ مَاتَ ، فَوَقَعُوا فِيهِ يَأْكُلُونَهُ ، ثُمَّ إِنَّهُمْ شَكُّوا فِي أَكْلِهِمْ إِيَّاهُ وَهُمْ حُرُمٌ ، فَرُحْنَا وَخَبَأْتُ الْعَضُدَ مَعِي ، فَأَدْرَكْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ فَنَاوَلْتُهُ الْعَضُدَ ، فَأَكَلَهَا حَتَّى تَعَرَّقَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ " . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ : وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، مِثْلَهُ .
مولانا داود راز
´اور مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ اسلمی نے ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کے ساتھ مکہ کے راستہ میں ایک منزل پر بیٹھا ہوا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے آگے پڑاؤ کیا تھا ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم احرام کی حالت میں تھے لیکن میں احرام میں نہیں تھا ۔ لوگوں نے ایک گورخر کو دیکھا ۔ میں اس وقت اپنا جوتا ٹانکنے میں مصروف تھا ۔ ان لوگوں نے مجھے اس گورخر کے متعلق بتایا کچھ نہیں لیکن چاہتے تھے کہ میں کسی طرح دیکھ لوں ۔ چنانچہ میں متوجہ ہوا اور میں نے اسے دیکھ لیا ، پھر میں گھوڑے کے پاس گیا اور اسے زین پہنا کر اس پر سوار ہو گیا لیکن کوڑا اور نیزہ بھول گیا تھا ۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ کوڑا اور نیزہ مجھے دے دو ۔ انہوں نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم ! ہم تمہاری شکار کے معاملہ میں کوئی مدد نہیں کریں گے ۔ ( کیونکہ ہم محرم ہیں ) میں غصہ ہو گیا اور میں نے اتر کر خود یہ دونوں چیزیں اٹھائیں پھر سوار ہو کر اس پر حملہ کیا اور ذبح کر لیا ۔ جب وہ ٹھنڈا ہو گیا تو میں اسے ساتھ لایا پھر پکا کر میں نے اور سب نے کھایا لیکن بعد میں انہیں شبہ ہوا کہ احرام کی حالت میں اس ( شکار کا گوشت ) کھانا کیسا ہے ؟ پھر ہم روانہ ہوئے اور میں نے اس کا گوشت چھپا کر رکھا ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، تمہارے پاس کچھ بچا ہوا بھی ہے ؟ میں نے وہی دست پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے کھایا ۔ یہاں تک کہ اس کا گوشت آپ نے اپنے دانتوں سے کھینچ کھینچ کر کھایا اور آپ احرام میں تھے ۔ محمد بن جعفر نے بیان کیا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے یہ واقعہ بیان کیا ، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح سارا واقعہ بیان کیا ۔