کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ «إنا أعطيناك الكوثر» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4964
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : شَانِئَكَ : عَدُوَّكَ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «شانئك» تیرا دشمن ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4964
حدیث نمبر: 4964
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا عُرِجَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاءِ ، قَالَ : "أَتَيْتُ عَلَى نَهَرٍ حَافَتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ مُجَوَّفًا ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ " قَالَ : " هَذَا الْكَوْثَرُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے بیان کیا ، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک نہر پر پہنچا جس کے دونوں کناروں پر خولدار موتیوں کے ڈیرے لگے ہوئے تھے ۔ میں نے پوچھا اے جبرائیل ! یہ نہر کیسی ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حوض کوثر ہے ( جو اللہ نے آپ کو دیا ہے ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4964
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4965
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْكَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَ : " سَأَلْتُهَا عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ سورة الكوثر آية 1 ، قَالَتْ : " نَهَرٌ أُعْطِيَهُ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاطِئَاهُ عَلَيْهِ دُرٌّ مُجَوَّفٌ آنِيَتُهُ كَعَدَدِ النُّجُومِ " .رَوَاهُ زَكَرِيَّاءُ ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ ، وَمُطَرِّفٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ .
مولانا داود راز
´ہم سے خالد بن یزید کاہلی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا ، ان سے ابوعبیدہ نے کہ` میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «إنا أعطيناك الكوثر‏» یعنی ” ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا ہے “ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ یہ ( کوثر ) ایک نہر ہے جو تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بخشی گئی ہے ، اس کے دو کنارے ہیں جن پر خولدار موتیوں کے ڈیرے ہیں ۔ اس کے آبخورے ستاروں کی طرح ان گنت ہیں ۔ اس حدیث کی روایت زکریا اور ابوالاحوص اور مطرف نے ابواسحاق سے کی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4965
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4966
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ قَالَ : " فِي الْكَوْثَرِ هُوَ الْخَيْرُ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ ، قَالَ أَبُو بِشْرٍ : قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ : فَإِنَّ النَّاسَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ ، فَقَالَ سَعِيدٌ : النَّهَرُ الَّذِي فِي الْجَنَّةِ مِنَ الْخَيْرِ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، ان سے ابوالبشر نے بیان کیا ، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا` اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کوثر کے متعلق کہ وہ خیر کثیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے ۔ ابوبشر نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن جبیر سے عرض کی ، لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے جنت کی ایک نہر مراد ہے ؟ سعید نے کہا کہ جنت کی نہر بھی اس خیر کثیر میں سے ایک ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4966
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة