کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ «أرأيت» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4964-2
وَقَالَ مُجَاهِدٌ : يَدُعُّ : يَدْفَعُ عَنْ حَقِّهِ ، يُقَالُ : هُوَ مِنْ دَعَعْتُ يُدَعُّونَ يُدْفَعُونَ ، سَاهُونَ : لَاهُونَ ، وَالْمَاعُونَ : الْمَعْرُوفَ كُلُّهُ ، وَقَالَ بَعْضُ الْعَرَبِ : الْمَاعُونُ الْمَاءُ ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ : أَعْلَاهَا الزَّكَاةُ الْمَفْرُوضَةُ ، وَأَدْنَاهَا عَارِيَّةُ الْمَتَاعِ.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ مجاہد نے کہا «يدع‏» کا معنی دفع کرتا ہے یعنی یتیم کو اس کا حق نہیں لینے دیتا ، کہتے ہیں یہ «دعوت» سے نکلا ہے ۔ اسی سے سورۃ الطور میں لفظ «يوم يدعون‏» ہے ( یعنی جس دن دوزخ کی طرف اٹھائے جائیں گے ، ڈھکیلے جائیں گے ۔ «ساهون‏» بھولنے والے ، غافل ۔ «ماعون‏» کہتے ہیں مروت کے ہر اچھے کام کو ۔ بعض عرب «ماعون‏» پانی کو کہتے ہیں ۔ عکرمہ نے کہا «ماعون‏» کا اعلیٰ درجہ زکوٰۃ دینا ہے اور ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ کوئی شخص کچھ سامان مانگے تو اسے وہ دیدے ، اس کا انکار نہ کرے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4964-2