کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ «لإيلاف قريش» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4964-3
وَقَالَ مُجَاهِدٌ : لِإِيلَافِ : أَلِفُوا ذَلِكَ فَلَا يَشُقُّ عَلَيْهِمْ فِي الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ ، وَآمَنَهُمْ : مِنْ كُلِّ عَدُوِّهِمْ فِي حَرَمِهِمْ ، قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : لِإِيلَافِ لِنِعْمَتِي عَلَى قُرَيْشٍ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ مجاہد نے کہا «لإيلاف‏ قريش‏.» کا مطلب یہ ہے کہ قریش کے لوگوں کا دل سفر میں لگا دیا تھا ، گرمی جاڑے کسی بھی موسم میں ان پر سفر کرنا دشوار نہ تھا اور ان کو حرم میں جگہ دے کر دشمنوں سے بےفکر کر دیا تھا ۔ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ «لإيلاف‏ قريش‏.» کا معنی یہ ہے قریش پر میرے احسان کی وجہ سے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4964-3