کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ «وَالتِّينِ» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4952
وَقَالَ مُجَاهِدٌ : هُوَ التِّينُ وَالزَّيْتُونُ : الَّذِي يَأْكُلُ النَّاسُ ، يُقَالُ : فَمَا يُكَذِّبُكَ : فَمَا الَّذِي يُكَذِّبُكَ بِأَنَّ النَّاسَ يُدَانُونَ بِأَعْمَالِهِمْ كَأَنَّهُ ، قَالَ : وَمَنْ يَقْدِرُ عَلَى تَكْذِيبِكَ بِالثَّوَابِ وَالْعِقَابِ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ مجاہد نے کہا کہ آیت میں وہی تین ( انجیر ) اور زیتون مشہور میوے ذکر ہوئے ہیں جنہیں لوگ کھاتے ہیں ۔ «فما يكذبك‏» یعنی کیا وجہ ہے جو تو اس بات کو جھٹلائے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ ملے گا ۔ گویا یوں کہا کون کہہ سکتا ہے کہ تو عذاب اور ثواب کو جھٹلانے لگے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4952