کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت «وأما من بخل واستغنى» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4947
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ " ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا نَتَّكِلُ ؟ قَالَ : " لَا ، اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ ، ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى إِلَى قَوْلِهِ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى سورة الليل آية 5 - 10 " .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ بن موسیٰ بلخی نے بیان کیا ، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے سعد بن عبیدہ نے ، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم میں کوئی ایسا نہیں جس کا جہنم کا ٹھکانا اور جنت کا ٹھکانا لکھا نہ جا چکا ہو ۔ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! پھر ہم اسی پر بھروسہ کیوں نہ کر لیں ؟ فرمایا نہیں عمل کرتے رہو کیونکہ ہر شخص کو آسانی دی گئی ہے اور اس کے بعد آپ نے اس آیت کی تلاوت کی «فأما من أعطى واتقى * وصدق بالحسنى * فسنيسره لليسرى‏» یعنی ” سو جس نے دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات کو سچا سمجھا اس کے لیے راحت کی چیز آسان کر دیں گے ۔ “ تا «فسنيسره للعسرى‏» ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4947
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة