کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”سو جس نے دیا اور اللہ سے ڈرا اور اس نے اچھی باتوں کی تصدیق کی“۔
حدیث نمبر: 4945
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فِي جَنَازَةٍ ، فَقَالَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا نَتَّكِلُ ؟ فَقَالَ : " اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ ، ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى إِلَى قَوْلِهِ لِلْعُسْرَى سورة الليل آية 5 - 10 .
مولانا داود راز
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے سعد بن عبیدہ نے ، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بقیع الغرقد ( مدینہ منورہ کے قبرستان ) میں ایک جنازہ میں تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا کہ تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا ٹھکانا جنت یا جہنم میں لکھا نہ جا چکا ہو ۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! پھر کیوں نہ ہم اپنی تقدیر پر بھروسہ کر لیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کہ ہر شخص کو اسی عمل کی توفیق ملتی رہتی ہے ( جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «فأما من أعطى واتقى * وصدق بالحسنى» آخر تک پڑھی ۔ یعنی ہم اس کے لیے نیک کام آسان کر دیں گے ۔