حدیث نمبر: Q4942-2
وَقَالَ مُجَاهِدٌ : وَأَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ : بِمَكَّةَ لَيْسَ عَلَيْكَ مَا عَلَى النَّاسِ فِيهِ مِنَ الْإِثْمِ ، وَوَالِدٍ : آدَمَ ، وَمَا وَلَدَ ، لُبَدًا : كَثِيرًا ، وَالنَّجْدَيْنِ : الْخَيْرُ وَالشَّرُّ ، مَسْغَبَةٍ ، مَجَاعَةٍ : مَتْرَبَةٍ ، السَّاقِطُ فِي التُّرَابِ يُقَالُ : فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ ، فَلَمْ يَقْتَحِمْ الْعَقَبَةَ فِي الدُّنْيَا ، ثُمَّ فَسَّرَ الْعَقَبَةَ ، فَقَالَ : وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ ، فَكُّ رَقَبَةٍ ، أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ .
مولانا داود راز
مجاہد نے کہا «بهذا البلد» سے مکہ مراد ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ خاص تیرے لیے یہ شہر حلال ہوا اوروں کو وہاں لڑنا گناہ ہے ۔ «والد» سے آدم ، «وما ولد» سے ان کی اولاد مراد ہے ۔ «لبدا» بہت سارا ۔ «النجدين» دو رستے بھلے اور برے ۔ «مسغبة» بھوک ۔ «متربة» مٹی میں پڑا رہنا مراد ہے ۔ «فلا اقتحم العقبة» یعنی اس نے دنیا میں گھاٹی نہیں پھاندی پھر گھاٹی پھاندنے کو آگے بیان کیا ۔ «برده» غلام آزاد کرنا بھوک اور تکلیف کے دن بھوکوں کو کھانا کھلانا ۔