کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ الفجر کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4942-3
وَقَالَ مُجَاهِدٌ : الْوَتْرُ اللَّهُ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ : يَعْنِي الْقَدِيمَةَ وَالْعِمَادُ أَهْلُ عَمُودٍ لَا يُقِيمُونَ ، سَوْطَ عَذَابٍ : الَّذِي عُذِّبُوا بِهِ ، أَكْلًا لَمًّا : السَّفُّ ، وَجَمًّا : الْكَثِيرُ ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ : كُلُّ شَيْءٍ خَلَقَهُ فَهُوَ شَفْعٌ السَّمَاءُ شَفْعٌ وَالْوَتْرُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، وَقَالَ غَيْرُهُ : سَوْطَ عَذَابٍ : كَلِمَةٌ تَقُولُهَا الْعَرَبُ لِكُلِّ نَوْعٍ مِنَ الْعَذَابِ يَدْخُلُ فِيهِ السَّوْطُ ، لَبِالْمِرْصَادِ : إِلَيْهِ الْمَصِيرُ ، تَحَاضُّونَ : تُحَافِظُونَ وَتَحُضُّونَ تَأْمُرُونَ بِإِطْعَامِهِ ، الْمُطْمَئِنَّةُ : الْمُصَدِّقَةُ بِالثَّوَابِ ، وَقَالَ الْحَسَنُ : يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ : إِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَبْضَهَا اطْمَأَنَّتْ إِلَى اللَّهِ وَاطْمَأَنَّ اللَّهُ إِلَيْهَا وَرَضِيَتْ عَنِ اللَّهِ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَأَمَرَ بِقَبْضِ رُوحِهَا وَأَدْخَلَهَا اللَّهُ الْجَنَّةَ وَجَعَلَهُ مِنْ عِبَادِهِ الصَّالِحِينَ ، وَقَالَ غَيْرُهُ : جَابُوا : نَقَبُوا مِنْ جِيبَ الْقَمِيصُ قُطِعَ لَهُ جَيْبٌ يَجُوبُ الْفَلَاةَ يَقْطَعُهَا ، لَمًّا : لَمَمْتُهُ أَجْمَعَ أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهِ.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ مجاہد نے کہا «وتر» سے مراد اللہ تعالیٰ ہے ۔ «إرم ذات العماد‏» سے پرانی قوم عاد مراد ہے ۔ «عماد‏» کے معنی خیمہ کے ہیں ، یہ لوگ خانہ بدوش تھے ۔ جہاں پانی چارہ پاتے وہیں خیمہ لگا کر رہ جاتے ۔ «سوط عذاب‏» کا معنی یہ کہ ان کو عذاب دیا گیا ۔ «أكلا لما‏» سب چیز سمیٹ کر کھا جانا ۔ «حبا جما‏» بہت محبت رکھنا ۔ مجاہد نے کہا اللہ نے جس چیز کو پیدا کیا وہ ( «شفع» ) جوڑا ہے آسمان بھی زمین کا جوڑا ہے اور «وتر» صرف اللہ پاک ہی ہے ۔ اوروں نے کہا «سوط عذاب‏» یہ عرب کا ایک محاورہ ہے جو ہر ایک قسم کے عذاب کو کہتے ہیں من جملہ ان کے ایک کوڑے کا بھی عذاب ہے ۔ «لبالمرصاد‏» یعنی اللہ کی طرف سب کو پھر جانا ہے ۔ «لا تحاضون‏» ( الف کے ساتھ جیسے مشہور قرآت ہے ) محافظت نہیں کرتے ہو بعضوں نے «متحضون» پڑھا ہے یعنی حکم نہیں دیتے ہو ، «المطمئنة‏» وہ نفس جو اللہ کے ثواب پر یقین رکھنے والا ہو ، مومن ، کامل الایمان ۔ امام حسن بصری نے کہا «نفس‏ المطمئنة‏» وہ نفس کہ جب اللہ اس کو بلانا چاہے ( موت آئے ) تو اللہ کے پاس چین نصیب ہو ، اللہ اس سے خوش ہو ، وہ اللہ سے خوش ہو ۔ پھر اللہ اس کی روح قبض کرنے کا حکم دے اور اس کو بہشت میں لے جائے ، اپنے نیک بندوں میں شامل فرما دے ۔ اوروں نے کہا «جابوا‏» کا معنی کریدکرید کر مکان بنانا یہ «جيب» سے نکلا ہے جب اس میں «جيب» لگائی جائے ، اسی طرح عرب لوگ کہتے ہیں «فلان يجوب الفلاة» وہ جنگل قطع کرتا ہے «لما» عرب لوگ کہتے ہیں «لممته» جمع میں اس کے اخیر تک پہنچ گیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4942-3