کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ المرسلات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4930
وَقَالَ مُجَاهِدٌ : جِمَالَاتٌ : حِبَالٌ ، ارْكَعُوا : صَلُّوا لَا يَرْكَعُونَ لَا يُصَلُّونَ وَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، لَا يَنْطِقُونَ ، وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ ، الْيَوْمَ نَخْتِمُ : عَلَى أَفْوَاهِهِمْ ، فَقَالَ إِنَّهُ ذُو أَلْوَانٍ مَرَّةً يَنْطِقُونَ وَمَرَّةً يُخْتَمُ عَلَيْهِمْ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور مجاہد نے کہا «جمالات» جہاز کی موٹی رسیاں ۔ «اركعوا» نماز پڑھو ۔ «لا يركعون» نماز نہیں پڑھتے ۔ کسی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا یہ قرآن مجید میں اختلاف کیا ہے ایک جگہ تو فرمایا کہ کافر بات نہ کریں گے ۔ دوسری جگہ یوں ہے کہ کافر قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم (دنیا میں) مشرک نہ تھے ۔ تیسری جگہ یوں ہے کہ ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے ۔ انہوں نے کہا قیامت کے دن کافروں کے مختلف حالات ہوں گے ۔ کبھی وہ بات کریں گے ، کبھی ان کے منہ پر مہر کر دی جائے گی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4930