کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ دھر کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4930-2
يُقَالُ : مَعْنَاهُ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ وَهَلْ تَكُونُ جَحْدًا وَتَكُونُ خَبَرًا ، وَهَذَا مِنَ الْخَبَرِ ، يَقُولُ : كَانَ شَيْئًا فَلَمْ يَكُنْ مَذْكُورًا ، وَذَلِكَ مِنْ حِينِ خَلَقَهُ مِنْ طِينٍ إِلَى أَنْ يُنْفَخَ فِيهِ الرُّوحُ ، أَمْشَاجٍ : الْأَخْلَاطُ مَاءُ الْمَرْأَةِ وَمَاءُ الرَّجُلِ الدَّمُ وَالْعَلَقَةُ ، وَيُقَالُ : إِذَا خُلِطَ مَشِيجٌ كَقَوْلِكَ خَلِيطٌ وَمَمْشُوجٌ مِثْلُ مَخْلُوطٍ ، وَيُقَالُ : سَلَاسِلًا وَأَغْلَالًا : وَلَمْ يُجْرِ بَعْضُهُمْ ، مُسْتَطِيرًا : مُمْتَدًّا الْبَلَاءُ وَالْقَمْطَرِيرُ الشَّدِيدُ يُقَالُ يَوْمٌ قَمْطَرِيرٌ وَيَوْمٌ قُمَاطِرٌ وَالْعَبُوسُ وَالْقَمْطَرِيرُ وَالْقُمَاطِرُ وَالْعَصِيبُ أَشَدُّ مَا يَكُونُ مِنَ الْأَيَّامِ فِي الْبَلَاءِ ، وَقَالَ الْحَسَنُ : النُّضْرَةُ فِي الْوَجْهِ وَالسُّرُورُ فِي الْقَلْبِ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : الْأَرَائِكِ السُّرُرُ ، وَقَالَ الْبَرَاءُ : وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا يَقْطِفُونَ كَيْفَ شَاءُوا ، وَقَالَ مَعْمَرٌ : أَسْرَهُمْ : شِدَّةُ الْخَلْقِ وَكُلُّ شَيْءٍ شَدَدْتَهُ مِنْ قَتَبٍ وَغَبِيطٍ فَهُوَ مَأْسُورٌ.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ لفظ «هل أتى» کا معنی آ چکا ۔ «هل» کا لفظ کبھی تو انکار کے لیے آتا ہے ، کبھی تحقیق کے لیے ( «قد» کے معنی میں ) یہاں «قد» ہی کے معنی میں ہے ۔ یعنی ایک زمانہ انسان پر ایسا آ چکا ہے کہ وہ ذکر کرنے کے قابل چیز نہ تھا ، یہ وہ زمانہ ہے جب مٹی سے اس کا پتلا بنایا گیا تھا ۔ اس وقت تک جب روح اس میں پھونکی گئی ۔ «أمشاج‏» ملی ہوئی چیزیں یعنی مرد اور عورت دونوں کی منی اور خون اور پھٹکی اور جب کوئی چیز دوسری چیز سے ملا دی جائے تو کہتے ہیں «مشيج» جیسے «خليط‏.‏» یعنی «ممشوج» اور «مخلوط» بعضوں نے یوں پڑھا ہے «سلاسلا وأغلالا‏» ( بعضوں نے «سلاسلا وأغلالا‏» بغیر تنوین کے پڑھا ہے ) انہوں نے «سلاسلا‏» کی تنوین جائز نہیں رکھی ۔ «مستطير‏» اس کی برائی پھیلی ہوئی ۔ «قمطرير» سخت ۔ عرب لوگ کہتے ہیں «يوم قمطرير ويوم قماطر» یعنی سخت مصیبت کا دن ۔ «عبوس» اور «قمطرير» اور «قماطر» اور «قصيب» ان چاروں کا معنی وہ دن جس پہ سخت مصیبت آئے اور معمر بن عبیدہ نے کہا «شددنا أسرهم‏» معنی یہ ہے کہ ہم نے ان کی خلقت خوب مضبوط کی ہے ۔ عرب لوگ جس کو تو مضبوط باندھے جیسے پالان ، ہودج وغیرہ اس کو «مأسور‏» کہتے ہیں ۔ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز فجر میں ) اکثر پہلی رکعت میں سورۃ الم سجدہ اور دوسری رکعت میں سورۃ «هل أتى على الإنسان» کی تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4930-2